🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
85. شأن نزول آية : ( لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى )
آیت“نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ”کے نازل ہونے کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3239
حدثنا أبو العبَّاس قاسم بن القاسم السَّيَّاري، حدثنا إبراهيم بن هلال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا الحسين بن واقد، عن عمرو بن دينار، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: أنَّ عبد الرحمن بن عَوْف وأصحابًا له أتَوُا النبيَّ ﷺ بمكة فقالوا: يا نبيَّ الله، كنا في عزٍّ ونحن مشركون، فلمَّا آمَنَّا صِرْنا أَذلَّةً! قال:"إني أُمِرْتُ بالعفو فلا تُقاتِلوا، فكُفُّوا"، فأنزل الله: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ﴾ [النساء: 77] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3200 - على شرط البخاري
سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکۃ المکرمہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم جب تک مشرک تھے تو بہت عزت دار تھے لیکن جب سے مسلمان ہوئے ہیں، تب سے ذلیل ہو کر رہ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے عفو و درگزر کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے جنگ مت کرو۔ چنانچہ وہ لوگ رک گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَھُمْ کُفُّوْآ اَیْدِیَکُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ (النساء: 77) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا: اپنے ہاتھ روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے بعضے لوگوں سے ایسے ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرے یا اس سے بھی زائد ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3239]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3239 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل إبراهيم بن هلال وقد سلفت ترجمته برقم (420)، وهذا الحديث سلف برقم (2408).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث ’قوی‘ ہے، اور یہ سند ابراہیم بن ہلال کی وجہ سے ’حسن‘ ہے، اور ان کا تعارف نمبر (420) پر گزر چکا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ حدیث نمبر (2408) پر گزر چکی ہے۔