المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
85. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ : ( لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى )
آیت“نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ”کے نازل ہونے کا سبب
حدیث نمبر: 3239
حدثنا أبو العبَّاس قاسم بن القاسم السَّيَّاري، حدثنا إبراهيم بن هلال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا الحسين بن واقد، عن عمرو بن دينار، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: أنَّ عبد الرحمن بن عَوْف وأصحابًا له أتَوُا النبيَّ ﷺ بمكة فقالوا: يا نبيَّ الله، كنا في عزٍّ ونحن مشركون، فلمَّا آمَنَّا صِرْنا أَذلَّةً! قال:"إني أُمِرْتُ بالعفو فلا تُقاتِلوا، فكُفُّوا"، فأنزل الله: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ﴾ [النساء: 77] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3200 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3200 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ ساتھی مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! جب ہم مشرک تھے تو عزت والے تھے، لیکن جب ہم ایمان لائے تو (بظاہر) ذلیل و خوار ہو گئے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے (ابھی) درگزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا تم لڑائی نہ کرو اور (اپنے ہاتھوں کو) روکے رکھو“، پھر (مدینہ ہجرت کے بعد) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ﴾ ”کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، پھر جب ان پر قتال فرض کر دیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے ڈرنے لگا“ [سورة النساء: 77] ۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3239]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3239]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل إبراهيم بن هلال وقد سلفت ترجمته برقم (420)، وهذا الحديث سلف برقم (2408).» [ترقيم الرساله 3239] [ترقيم الشركة 3219] [ترقيم العلميه 3200]
الحكم على الحديث: حديث قوي
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3239 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل إبراهيم بن هلال وقد سلفت ترجمته برقم (420)، وهذا الحديث سلف برقم (2408).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث ’قوی‘ ہے، اور یہ سند ابراہیم بن ہلال کی وجہ سے ’حسن‘ ہے، اور ان کا تعارف نمبر (420) پر گزر چکا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ حدیث نمبر (2408) پر گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3239 in Urdu