🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
108. شَأْنُ نُزُولِ : ( مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى ) الْآيَةَ
آیت“کسی نبی کے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ اس کے پاس قیدی ہوں”کے نازل ہونے کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3309
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مهاجِر، عن مجاهد، عن ابن عمر قال: استشارَ رسولُ الله ﷺ في الأُسارَى أبا بكر، فقال: قومُك وعشيرتُك، فخلِّ سبيلَهم، فاستشار عمرَ فقال: اقتُلهم قال: ففاداهم رسولُ الله ﷺ، فأنزل الله ﷿: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ إِلى قوله: ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ [الأنفال: 67 - 69] ، قال: فلَقيَ النبيُّ ﷺ عمرَ فقال:"كادَ أن يُصيبَنا في خِلافِك بَلاءٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3270 - صحيح على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کے بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا، تو انہوں نے عرض کی: یہ آپ کی قوم اور آپ کے رشتہ دار ہیں، لہٰذا انہیں چھوڑ دیجیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے عرض کی: انہیں قتل کر دیجیے، راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فدیہ لے کر (انہیں چھوڑ دیا)، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں (دشمن کو کچل کر) خونریزی نہ کر لے سے لے کر ﴿فكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ پس جو مالِ غنیمت تمہیں ملا ہے اسے حلال و پاکیزہ سمجھ کر کھاؤ [سورة الأنفال: 67 - 69] تک۔ (ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملے تو فرمایا: قریب تھا کہ تمہاری رائے کی مخالفت کی وجہ سے ہم پر کوئی مصیبت (عذاب) نازل ہو جاتی۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3309]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: فلقي النبي ﷺ عمر … إلخ، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل إبراهيم بن مهاجر -وهو البَجَلي- ففيه لين وقد انفرد بالحرف المشار إليه، وأصل الحديث قد صحَّ من رواية عمر نفسه عند مسلم في "صحيحه" (1763) من حديث ابن عبَّاس عنه.» [ترقيم الرساله 3309] [ترقيم الشركة 3289] [ترقيم العلميه 3270]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره دون قوله: فلقي النبي ﷺ عمر … إلخ

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3309 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره دون قوله: فلقي النبي ﷺ عمر … إلخ، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل إبراهيم بن مهاجر -وهو البَجَلي- ففيه لين وقد انفرد بالحرف المشار إليه، وأصل الحديث قد صحَّ من رواية عمر نفسه عند مسلم في "صحيحه" (1763) من حديث ابن عبَّاس عنه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "حسن لغیرہ" ہے سوائے ان الفاظ کے: "پس نبی ﷺ کی عمر سے ملاقات ہوئی..." الخ۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور یہ سند متابعات و شواہد میں ابراہیم بن مہاجر (البجلی) کی وجہ سے حسن ہے؛ ان میں کچھ "لین" (کمزوری) ہے اور وہ اس مذکورہ حصے میں منفرد ہیں۔ البتہ اصل حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اپنی روایت سے صحیح مسلم (1763) میں حضرت ابن عباس کے واسطے سے ان سے ثابت ہے۔
وأما حديث إبراهيم بن مهاجر، فقد أخرجه أبو نعيم في "الحلية" 1/ 43 من طريق أحمد بن أبي سريج الرازي، عن عبيد الله بن موسى بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: جہاں تک ابراہیم بن مہاجر کی حدیث کا تعلق ہے، تو اسے ابونعیم نے "الحلیہ" (1/ 43) میں احمد بن ابی سریج رازی کے طریق سے، عبیداللہ بن موسیٰ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3309 in Urdu