المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
107. شأن نزول : ( إن تستفتحوا فقد جاءكم الفتح )
آیت“اگر تم فتح مانگتے تھے تو وہ فتح تمہارے پاس آچکی”کے نازل ہونے کا سبب
حدیث نمبر: 3308
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيِّ، حدثنا أبو حاتم محمد ابن إدريس، حدثنا مالك بن إسماعيل النَّهْدي، حدثني محمد بن فُضَيل بن غَزْوان، عن أبيه. وأخبرني أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثني فُضَيل بن غَزْوان قال: لَقِيتُ أبا إسحاق بعدما ذَهَبَ بصرُه، فقلت له: أتعرِفُني؟ فقال: إنِّي لَأعرِفُك (3) وأحبُّك، ثم قال: حدثني أبو الأَحوَص، عن عبد الله أنه قال: نزلت هذه الآيةُ في المتحابِّين في الله: ﴿لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ﴾ الآية (4) . هذا لفظ حديث أبي حاتم.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3269 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3269 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا فضیل بن غزوان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: ابواسحاق کی بینائی زائل ہو جانے کے بعد (کا وقعہ ہے کہ) میں نے ان سے کہا: کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں تجھے صرف پہچانتا ہی نہیں بلکہ تجھ سے محبت بھی کرتا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا: مجھے ابوالاحوص نے سیدنا عبداللہ کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو رضائے الٰہی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں (وہ آیت یہ ہے) لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ (الانفال: 63) ” اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کر دیتے ان کے دل نہ ملا سکتے “۔۔ یہ الفاظ ابوحاتم کی روایت کے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3308]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3308 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) في (ز) و (ص): لا أعرفك، بالنفي، وهو. خطأ، والتصويب من (ع) و (ب)، وهو الموافق لما في المصادر التي خرَّجته كـ"الجعديات" للبغوي (401) و"الإخوان" لابن أبي الدنيا (14) و"تفسير ابن أبي حاتم" 5/ 1727.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ص) میں "لا أعرفك" (نفی کے ساتھ) ہے جو کہ غلطی ہے۔ درستی نسخہ (ع) اور (ب) سے کی گئی ہے، اور یہی ان مصادر کے موافق ہے جنہوں نے اس کی تخریج کی ہے، جیسے بغوی کی "الجعدیات" (401)، ابن ابی الدنیا کی "الاخوان" (14) اور "تفسیر ابن ابی حاتم" (5/ 1727)۔
(4) إسناده صحيح. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي، وأبو الأحوص: هو عوف بن مالك الأشجعي. وأخرجه بنحوه النسائي (11146) من طريق حفص بن غياث، عن فضيل بن غزوان، به.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: (سند میں موجود) ابواسحاق: یہ عمرو بن عبداللہ السبیعی ہیں، اور ابوالاحوص: یہ عوف بن مالک اشجعی ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی کی مثل نسائی (11146) نے حفص بن غیاث کے طریق سے، فضیل بن غزوان سے روایت کیا ہے۔