🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
112. خير ما يكنز المرء المرأة الصالحة
آدمی کے لیے سب سے بہترین خزانہ نیک بیوی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3320
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدثنا يحيى بن يعلى بن الحارث المُحارِبي، حدثنا أَبي، حدثنا غَيْلان بن جامع، عن عثمان أبي اليَقْظان الخُزاعي (2) ، عن جعفر بن إياس، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس قال: لما نزلت: ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [التوبة: 34] ، كَبُرَ ذلك على المسلمين وقالوا: ما يستطيع أحدُنا أن يتركَ مالًا لولده يبقى بعدَه، فقال عمر: أنا أُفرِّجُ عنكم، قال: فانطَلَقوا وانطلقَ عمرُ واتَّبعه ثوبانُ، فأَتَوْا رسولَ الله ﷺ فقال عمر: يا نبيَّ الله، قد كَبُرَ على أصحابك هذه الآيةُ، فقال نبي الله ﷺ:"إنَّ الله لم يَفرِضِ الزكاةَ إلَّا ليُطيِّبَ بها ما بقيَ من أموالكم، وإنما فَرَضَ المواريثَ في أموالٍ تبقى بعدَكم"، قال: فكَبَّر عمرُ، ثم قال له النبي ﷺ:"ألا أخبِرُك بخير ما يَكنِزُه المَرْءُ؟ المرأةُ الصالحة: إذا نَظَرَ إليها سَرَّتْه، وإذا أمرَها أطاعَتْه، وإذا غاب عنها حَفِظَتْه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3281 - عثمان لا أعرفه والخبر عجيب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: (الَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَ الْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ) (التوبۃ: 34) اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں خوشخبری سناؤ درد ناک عذاب کی (ترجمعہ کنزالاایمان،) تو یہ حکم مسلمانوں کو بہت گراں محسوس ہوا اور کہنے لگے: اس طرح تو ہم میں سے کوئی بھی اپنی اولاد کے لیے مال نہیں چھوڑ سکے گا، جو اس کے بعد اس کی اولاد کے لیے باقی رہے۔ سیدنا عمر بولے رضی اللہ عنہ میں تمہارے لیے اس حکم میں وسعت پیدا کروا دوں گا (راوی کہتے ہیں) تمام لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیئے۔ سیدنا ثوبان بھی ان کے پیچھے ہو لیئے، یہ سب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچ گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آیت آپ کے اصحاب پر بہت گراں گزری ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تو زکوۃ فرض ہی اس لیے کی ہے تاکہ تمہارے بقیہ اموال پاک ہو جائیں اور جو مال تمہارے بعد باقی رہیں گے، ان میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کے حصے رکھے ہیں۔ (راوی) کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نعرۂ تکبیر بلند کیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بہترین خزانے کی خبر نہ دوں، جس کو آدمی جمع کرتا ہے (آدمی کا بہترین خزانہ) وہ بیوی ہے کہ جب وہ اس (بیوی) کی طرف دیکھے تو وہ اس (اپنے شوہر) کو خوش کر دے اور جب وہ اس کو حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جب وہ کہیں باہر جائے تو وہ اس کی عزت کی حفاظت کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3320]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3320 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في أصول "المستدرك": عثمان بن القطان الخزاعي، وهو تحريف، ولذا التبس أمره على الذهبي فقال في "تلخيصه": لا أعرفه والخبر عجيب. قلنا: والصواب في اسمه هو: عثمان أبو اليقظان البجلي، ولعلَّ ما وقع في الأصول خطأ من النساخ، فإنَّ البيهقي قد روى هذا الحديث في "شعب الإيمان" (3035) و"السنن" 4/ 83 عن أبي عبد الله الحاكم فسمّاه كما أثبتنا، إلّا أنَّ الخزاعي في اسمه وهمٌ فيما يغلب على ظننا، فإنَّ كل من ترجم له لم ينسبه إلّا بجليًّا.
📝 نوٹ / توضیح: "مستدرک" کے اصول (قلمی نسخوں) میں "عثمان بن القطان الخزاعی" ہے، جو کہ تحریف ہے۔ اسی وجہ سے ذہبی کو اشتباہ ہوا اور انہوں نے اپنی "تلخیص" میں کہا: "میں اسے نہیں پہچانتا اور یہ خبر عجیب ہے۔" 📌 اہم نکتہ: ہم کہتے ہیں: اس راوی کا درست نام "عثمان ابو الیقظان البجلی" ہے۔ شاید نسخوں میں جو لکھا ہے وہ کاتبوں کی غلطی ہے، کیونکہ بیہقی نے یہ حدیث "شعب الایمان" (3035) اور "السنن" (4/ 83) میں ابو عبداللہ الحاکم سے روایت کی ہے اور اس میں نام وہی لکھا ہے جو ہم نے ثابت کیا ہے۔ البتہ ہمارے غالب گمان کے مطابق اس کے نام کے ساتھ "الخزاعی" لکھنا وہم ہے، کیونکہ جس جس نے بھی ان کا ترجمہ کیا ہے، اس نے انہیں صرف "بجلی" ہی منسوب کیا ہے۔
(1) إسناده ضعيف بمرَّة، عثمان أبو اليقظان -وهو عثمان بن عمير- متفق على ضعفه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے؛ عثمان ابو الیقظان - جو عثمان بن عمیر ہیں - کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (3035)، و"السنن" 4/ 83 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (3035) اور "السنن" (4/ 83) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو يعلى (2499)، وابن أبي حاتم 6/ 1788، وابن الأعرابي في "معجمه" (1855)، والبيهقي 4/ 83، وابن عبد البر في "التمهيد" 19/ 168 من طرق عن يحيى بن يعلى المحاربي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابویعلیٰ (2499)، ابن ابی حاتم (6/ 1788)، ابن الاعرابی نے اپنے "معجم" (1855)، بیہقی (4/ 83) اور ابن عبدالبر نے "التمہید" (19/ 168) میں یحییٰ بن یعلی المحاربی سے مختلف طریقوں کے ساتھ اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وقد سلف برقم (1503) من طريق ابن المديني عن يحيى بن يعلي، بإسقاط عثمان أبي اليقظان من إسناده، وهو خطأ في الرواية.
📖 حوالہ / مصدر: اور یہ رقم (1503) پر ابن المدینی کے طریق سے یحییٰ بن یعلی سے گزر چکا ہے، لیکن وہاں سند سے عثمان ابوالیقظان کا نام گرا دیا گیا تھا، جو کہ روایت میں غلطی ہے۔
وقوله مرفوعًا في آخره في المرأة الصالحة حسنٌ لغيره، سلف التنبيه عليه في الموضع المشار إليه.
⚖️ درجۂ حدیث: اور اس کے آخر میں "نیک عورت" کے بارے میں مرفوع حصہ "حسن لغیرہ" ہے، جس پر مذکورہ مقام پر تنبیہ گزر چکی ہے۔