🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
114. ذكر موت أبى طالب وهداية النبى صلى الله عليه وآله وسلم له إلى الإيمان
ابوطالب کی وفات اور نبی ﷺ کی ان کے ایمان کی خواہش کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3330
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن حسين، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة قال: لما حَضَرَت أبا طالب الوفاةُ أتاه النبيُّ ﷺ وعنده عبد الله بن أبي أُمية وأبو جهل بن هشام، فقال له رسول الله ﷺ:"أيْ عمِّ، إنك أعظمُهم عليَّ حقًّا، وأحسنُهم عندي يدًا، ولَأنت أعظمُ عليَّ حقًّا من والدي، فقُلْ كلمةً تَجِبُ لك عليَّ بها الشفاعةُ يومَ القيامة، قل: لا إله إلَّا الله"، فقالا له: أترغَبُ عن مِلَّةِ عبد المطَّلِب؟ فسَكَتَ، فأعادَها عليه رسولُ الله ﷺ، فقال: أنا على مِلَّةِ عبد المطَّلِب، فمات، فقال النبي ﷺ:"لَأستغفِرَنَّ لك ما لم أُنهَ عنك"، فأنزل الله ﷿: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ الآية، ﴿وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ﴾ إلى آخر الآية [التوبة: 114] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فإنَّ يونسَ وعُقيلًا أَرسلاه عن الزُّهري عن سعيد (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3291 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے، اس وقت ان کے پاس عبداللہ بن ابی امیہ اور ابوجہل بن ہشام بھی موجود تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطالب سے کہا: اے چچا! مجھے سب سے زیادہ آپ کی شفقت حاصل رہی، سب سے زیادہ میرے اوپر آپ کا حق ہے بلکہ میرے اوپر میرے والد سے بھی بڑھ کر آپ کا حق ہے۔ آپ ایک مرتبہ ایک جملہ بول دیں جس کی وجہ سے میں آپ کی قیامت میں شفاعت کر سکوں۔ تم پڑھو لا الٰہ الّا اللہ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بولے: کیا تم عبدالمطلب کے دین سے منحرف ہو جاؤ گے؟ تو ابوطالب خاموش رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اس کو دین کی دعوت پیش کی لیکن اس نے کہا: میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔ اس کے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے لیے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتا رہوں گا جب تک مجھے روک نہ دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: (مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اَنْ یّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ) (التوبۃ: 113) نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں ۔ پوری آیت اور (وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاھِیْمَ لِاَبِیْہِ) (التوبۃ: 114) الی اخر الایۃ اور ابراہیم علیہ السلام کا اپنے باپ کی بخشش چاہنا ۔ (ترجمعہ کنزالایمان،) پوری آیت۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ یونس اور عقیل نے یہ حدیث زہری کے واسطے سے سعید سے روایت کرنے میں ارسال کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3330]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3330 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح لكن من حديث سعيد بن المسيب عن أبيه المسيب بن حزن ﵁، هكذا رواه ثقات أصحاب الزهري عنه، وخالفهم سفيان بن حسين وهو ثقة إلّا في الزهري فضعيف، ولم نقف على روايته هذه عند غير المصنف.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے لیکن سعید بن مسیب کے واسطے سے ان کے والد مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ کی حدیث سے۔ امام زہری کے ثقہ تلامذہ نے اسے اسی طرح ان سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سفیان بن حسین نے ان کی مخالفت کی ہے؛ وہ اگرچہ ثقہ ہیں لیکن زہری سے روایت کرنے میں ضعیف ہیں، اور ہمیں مصنف کے علاوہ کسی اور کے ہاں ان کی یہ روایت نہیں ملی۔
وأما حديث سعيد بن المسيب عن أبيه، فأخرجه أحمد 39/ (23674)، والبخاري (1360) و (3884) و (4772)، ومسلم (24)، والنسائي (2173)، وابن حبان (982) من طرق عن الزهري، عن سعيد، عن أبيه المسيب بن حزن.
📖 حوالہ / مصدر: جہاں تک سعید بن مسیب کی اپنے والد سے روایت کا تعلق ہے، تو اسے احمد (39/ 23674)، بخاری (1360، 3884، 4772)، مسلم (24)، نسائی (2173) اور ابن حبان (982) نے زہری سے، انہوں نے سعید سے اور انہوں نے اپنے والد مسیب بن حزن سے مختلف طرق کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأما حديث أبي هريرة في قصة وفاة أبي طالب، فهو ما رواه عنه أبو حازم الأشجعي: أنَّ رسول الله ﷺ قال لعمِّه عند الموت: "قل: لا إله إلّا الله، أشهد لك بها يوم القيامة"، قال: لولا أن تعيِّرني قريش يقولون: إنما حمله على ذلك الجَزَعُ، لأقررتُ بها عينك، فأنزل الله: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾ [القصص: 56]، أخرجه أحمد 15/ (9610)، ومسلم (25) وغيرهما.
📖 حوالہ / مصدر: اور ابو طالب کی وفات کے واقعے میں ابوہریرہ کی حدیث وہ ہے جو ابو حازم اشجعی نے ان سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے موت کے وقت اپنے چچا سے فرمایا: "لا الہ الا اللہ کہہ دیجئے، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کی گواہی دوں گا۔" انہوں نے کہا: اگر مجھے قریش یہ طعنہ نہ دیتے کہ مجھے موت کی گھبراہٹ (جزع) نے اس بات پر آمادہ کیا ہے، تو میں اس کلمے سے آپ کی آنکھ ٹھنڈی کر دیتا۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾ (القصص: 56)۔ اسے احمد (15/ 9610) اور مسلم (25) وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
(2) كذا قال المصنف ﵀! فأما يونس -وهو ابن يزيد- فإنَّ روايته عن الزهري لم تقع لنا إلّا مسندة من حديث سعيد بن المسيب عن أبيه، وهي عند مسلم (24) (39)، وابن حبان (982)، وأما رواية عَقيل -وهو ابن خالد- فلم نقف عليها فيما بين أيدينا من المصادر لا مسندة ولا مرسلة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف رحمہ اللہ نے ایسا ہی فرمایا ہے! لیکن جہاں تک یونس (ابن یزید) کا تعلق ہے تو زہری سے ان کی روایت ہمیں صرف مسند (متصل) ہی ملی ہے جو سعید بن مسیب کے واسطے سے ان کے والد سے ہے، اور وہ مسلم (24/ 39) اور ابن حبان (982) میں ہے۔ اور جہاں تک عقیل (ابن خالد) کی روایت کا تعلق ہے تو ہمارے سامنے موجود مصادر میں ہمیں وہ نہ مسند ملی اور نہ مرسل۔