المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
113. المسجد الذى أسس على التقوى مسجد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم
وہ مسجد جو تقویٰ پر قائم کی گئی وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے
حدیث نمبر: 3329
أخبرني أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا المفضَّل (1) بن محمد الجَنَدي بمكة، حدثنا أبو حُمَةَ، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن جابر قال: لما مات أبو طالبٍ قال رسول الله ﷺ:"رَحِمَك اللهُ وغَفَرَ لك يا عمّ، ولا أزالُ أستغفرُ لك حتى ينهانيَ اللهُ ﷿"، فأخذ المسلمون يستغفرون لموتاهم وهم مشركون، فأنزل الله: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ﴾ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقال لنا أبو علي على إثره: لا أعلمُ أحدًا وَصَلَ هذا الحديث عن سفيان غير أبي حُمَة اليَمَاني، وهو ثقة، وقد أرسَلَه أصحابُ ابن عُيينة عنه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3290 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقال لنا أبو علي على إثره: لا أعلمُ أحدًا وَصَلَ هذا الحديث عن سفيان غير أبي حُمَة اليَمَاني، وهو ثقة، وقد أرسَلَه أصحابُ ابن عُيينة عنه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3290 - صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب ابوطالب کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگنا شروع کی: اے میرے چچا! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے اور آپ کی مغفرت فرمائے اور میں اس وقت تک تیرے لیے دعائے مغفرت کرتا رہوں گا جب تک اللہ تعالیٰ مجھے منع نہیں کر دے گا (اس کے بعد) مسلمانوں نے بھی اپنے ان فوت شدگان کے لیے دعائے مغفرت کرنا شروع کر دی جو حالت شرک پر فوت ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اَنْ یّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوْآ اُولِیْ قُرْبٰی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ) (التوبۃ: 113) ” نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور ہمیں ابوعلی نے کہا: میں ایسے کسی راوی کو نہیں جانتا جس نے اس حدیث کو سفیان سے متصل کیا ہو سوائے ابوحمہ الیمانی کے اور وہ ثقہ ہیں۔ جبکہ ابن عیینہ کے شاگردوں نے اس میں ارسال کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3329]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3329 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الفضل. وانظر ترجمته في "سير أعلام النبلاء" 14/ 257 - 258.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "الفضل" بن گیا تھا۔ اس کا ترجمہ (سوانح) "سیر اعلام النبلاء" (14/ 257-258) میں دیکھیں۔
(2) إسناده جيد إن كان أبو حمة -واسمه محمد بن يوسف الزَّبيدي اليماني- حفظه عن سفيان موصولًا، فإنَّ أبا حمة هذا لما ذكره ابن حبان في "ثقاته" 9/ 104 قال: ربما أخطأ وأغرب. قلنا: وقد خالفه محمدُ بن عمر الواقدي عند ابن سعد في "الطبقات" 1/ 102، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 66/ 336، وعبد الوهاب بن عبد الرحيم الأشجعي عند ابن عساكر أيضًا 66/ 337، فروياه عن سفيان عن عمرو بن دينار مرسلًا لم يذكرا فيه جابرًا، لكن الواقدي متروك عند جمهور أهل الحديث، وعبد الوهاب الأشجعي لم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عمدہ (جید) ہے اگر "ابو حِمہ" (محمد بن یوسف زبیدی یمانی) نے اسے سفیان سے موصولاً یاد رکھا ہو۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: کیونکہ جب ابن حبان نے "الثقات" (9/ 104) میں ابو حمہ کا ذکر کیا تو فرمایا: وہ کبھی کبھار غلطی کرتے ہیں اور انوکھی روایت لاتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں: ان کی مخالفت محمد بن عمر الواقدی (ابن سعد: الطبقات 1/ 102، ابن عساکر: تاریخ دمشق 66/ 336) اور عبدالوہاب بن عبدالرحیم الاشجعی (ابن عساکر: 66/ 337) نے کی ہے۔ ان دونوں نے اسے سفیان سے، انہوں نے عمرو بن دینار سے "مرسلاً" روایت کیا ہے اور اس میں جابر کا ذکر نہیں کیا۔ لیکن واقدی جمہور محدثین کے نزدیک متروک ہے، اور عبدالوہاب الاشجعی کی توثیق ابن حبان کے علاوہ کسی سے منقول نہیں ہے۔
ويشهد له حديث سعيد بن المسيب عن أبيه المسيب بن حَزْن عند أحمد 39/ (23674) والبخاري (3884) ومسلم (24) وغيرهم. وانظر الحديث التالي.
🧩 متابعات و شواہد: اور اس کے لیے سعید بن مسیب کی اپنے والد مسیب بن حزن سے روایت کردہ حدیث بطور شاہد ہے جو احمد (39/ 23674)، بخاری (3884)، مسلم (24) اور دیگر کتب میں موجود ہے۔ اگلی حدیث بھی دیکھیں۔
(3) لم نقف إلّا على رواية اثنين عن سفيان مرسلًا كما تقدَّم، والطريقان ليسا بذاك.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمیں سفیان سے صرف دو لوگوں کی "مرسل" روایت ملی ہے جیسا کہ گزر چکا، اور وہ دونوں راستے (طرق) بھی اتنے قوی نہیں ہیں۔