🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
123. مكث نوح عليه السلام فى قومه وعمل السفينة
سیدنا نوح علیہ السلام کا اپنی قوم میں طویل قیام اور کشتی بنانے کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3349
أخبرنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا موسى بن يعقوب الزَّمْعي، حدثني فائدٌ مولى عُبيد الله بن علي بن أبي رافع، أنَّ إبراهيم بن عبد الرحمن بن أبي رَبيعة أخبره، أنَّ عائشة زوجَ النبي ﷺ أخبرته، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لو رَحِمَ اللهُ أحدًا من قوم نوحٍ، لرَحِمَ أمَّ الصَّبي"، قال رسول الله ﷺ:"كان نوحٌ مَكَثَ في قومه ألفَ سنة إلَّا خمسين عامًا يَدعُوهم، حتى كان آخرَ زمانه غَرَسَ شجرةً، فعَظُمَت وذهبت كلَّ مَذهَبٍ ثم قَطَعَها، ثم جعل يعملُها سفينةً ويَمرُّون فيسألونه، فيقول: أعمَلُها سفينةً، فيَسخَرون منه، ويقولون: تعملُ سفينةً في البَرِّ؟! وكيف تجري؟ قال: سوف تعلمون، فلما فَرَغَ منها فارَ التَّنُّورُ وكَثُرَ الماءُ في السِّكَك، خَشِيَت أمُّ الصبي عليه وكانت تحبُّه حبًا شديدًا، فخرجت إلى الجبل حتى بَلَغَت ثُلثَه (1) ، فلما بَلَغَها الماءُ خرجت به حتى استَوَت على الجبل، فلما بلغ الماءُ رَقَبتَها (2) ، رفعته بيدها حتى ذهب بهما الماءُ، فلو رَحِمَ الله منهم أحدًا لرَحِمَ أمَّ الصَّبي" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3310 - إسناده مظلم وموسى ليس بذاك
امیرالمومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ سیدنا نوح علیہ السلام کی قوم میں سے کسی پر رحم کرتا تو بچے کی والدہ پر رحم کرتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیدنا نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو ۹۵۰ سال تک تبلیغ کرتے رہے، آپ نے اپنے آخری وقت میں ایک درخت کاشت کیا، وہ اگا اور بہت بڑا ہو گیا، جب اس کی نشوونما مکمل ہو گئی تو انہوں نے اس کو کاٹا اور اس سے ایک کشتی تیار کرنا شروع کی۔ لوگ وہاں سے گزرتے اور پوچھتے کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ فرماتے: میں کشتی بنا رہا ہوں۔ اس پر لوگ ہنستے اور کہتے تم خشکی پر کشتی تیار کر رہے ہو، یہ چلے گئی کہاں پر؟ آپ فرماتے: عنقریب تمہیں سب پتہ چل جائے گا۔ جب آپ کشتی تیار کر کے فارغ ہو گئے تو چشمے ابل پڑے اور گلیوں سڑکوں میں ہر طرف پانی ہی پانی ہو گیا، ایک بچے کی ماں اس پر خوف زدہ ہوئی اور وہ اس سے بہت شدید محبت کرتی تھی، وہ پہاڑ کی طرف نکل آئی یہاں تک کہ وہ شگاف تک پہنچ گئی جب پانی وہاں تک پہنچا تو وہ وہاں سے نکل گئی یہاں تک کہ پہاڑ کے برابر ہو گئی۔ جب پانی اس کی گردن تک پہنچا تو اس نے (بچے کو ہاتھ میں لے کر) اپنا ہاتھ اونچا کیا، یہاں تک کہ پانی اس کے ہاتھوں کو بھی بہا لے گیا اور اگر اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی پر رحم کرتا تو اس بچے کی ماں پر رحم کرتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3349]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3349 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: ثلمة، والتصحيح ممّا سيأتي عند المصنف برقم (4054) ومن مصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "ثلمہ" بن گیا تھا۔ تصحیح مصنف کے ہاں آنے والی رقم (4054) اور تخریج کے مصادر سے کی گئی ہے۔
(2) في النسخ: رقبته.
📝 نوٹ / توضیح: نسخوں میں "رقبتہ" ہے۔
(3) إسناده ضعيف لتفرُّد موسى بن يعقوب الزمعي به، وله ما يُنكَر، وهذا منها، وهو إنما يعتبر به في المتابعات والشواهد، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه" فقال معقِّبًا على تصحيح الحاكم له: إسناده مظلم وموسى ليس بذاك. وقال الحافظ ابن كثير في "البداية والنهاية" 1/ 266: هذا حديث غريب، وقد روي عن كعب الأحبار ومجاهد وغير واحد شبيهٌ لهذه القصة، وأحرى بهذا الحديث أن يكون موقوفًا متلقًّى عن مثل كعب الأحبار.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ موسیٰ بن یعقوب الزمعی اس میں منفرد ہے، اور اس کی منکر روایات ہیں جن میں سے یہ بھی ایک ہے۔ اس کا اعتبار صرف متابعات و شواہد میں ہوتا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسی وجہ سے ذہبی نے "تلخیص" میں حاکم کی تصحیح پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: اس کی سند تاریک (مظلم) ہے اور موسیٰ اتنا قوی نہیں ہے۔ حافظ ابن کثیر نے "البدایہ والنہایہ" (1/ 266) میں کہا: یہ حدیث غریب ہے۔ اس قصے کے مشابہ کعب الاحبار اور مجاہد وغیرہ سے مروی ہے۔ زیادہ مناسب یہی ہے کہ یہ موقوف ہو اور کعب الاحبار جیسے لوگوں سے لی گئی ہو۔
وأخرجه كرواية المصنف الطبري في "تفسيره" 12/ 35، وفي تاريخه 1/ 180، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 6/ 2027، والطبراني في "الأوسط"كما في "مجمع البحرين" (3591)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 62/ 654 من طرق عن سعيد بن الحكم بن أبي مريم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے مصنف کی روایت کی طرح طبری نے "تفسیر" (12/ 35) اور "تاریخ" (1/ 180) میں، ابن ابی حاتم نے "تفسیر" (6/ 2027) میں، طبرانی نے "الاوسط" (مجمع البحرین: 3591) میں، اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (62/ 654) میں سعید بن حکم بن ابی مریم سے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔