🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
128. أفرس الناس ثلاثة
سب سے زیادہ فراست رکھنے والے تین لوگ ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3361
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة، عن سليمان قال: سمعت أبا وائل يقول: سمعت عبدَ الله يقرأ: ﴿هَيْتَ لَكَ﴾ [يوسف: 23] ، فقيل له، فقال: هكذا عُلِّمْنا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3321 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۂ یوسف کی آیت نمبر 23 کو یوں پڑھا کرتے تھے: (وَقَالَتْ ھَیْتَ لَکَ) (یوسف: 23) اور بولی آؤ تم سے کہتی ہوں آپ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: ہم نے اسی طرح یہ آیت سیکھی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3361]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3361 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح، وعبد الرحمن بن الحسن شيخ المصنف ضعيف، لكنه متابع سليمان: هو ابن مهران الأعمش، وأبو وائل: هو شقيق بن سلمة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے۔ مصنف کے شیخ عبدالرحمن بن الحسن ضعیف ہیں، لیکن ان کی متابعت موجود ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: سلیمان: یہ ابن مہران الاعمش ہیں، اور ابو وائل: یہ شقیق بن سلمہ ہیں۔
وأخرجه البخاري (4692) من طريق بشر بن عمر، عن شعبة، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (4692) نے بشر بن عمر کے طریق سے، شعبہ سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لہٰذا حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا ذہول (بھول) ہے۔
وأخرجه أبو داود (4004) و (4005) من طريقين عن الأعمش، به - وفيه: أنَّ ناسًا كانوا يقرؤون هذه الآية: (وقالت هِئتُ لكَ).
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداود (4004، 4005) نے دو طریقوں سے اعمش سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اور اس میں ہے کہ لوگ اس آیت کو یوں پڑھتے تھے: (وقالت هِئتُ لكَ)۔