🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
134. تفسير سورة إبراهيم عليه السلام
سورۂ ابراہیم علیہ السلام کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3377
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا الثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوَص، عن عبد الله، في قوله ﷿: ﴿فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ﴾ قال عبد الله: كذا؛ ورَدَّ يدَه في فيهِ وعَضَّ يدَه، وقال: عَضُّوا على أصابعِهم غَيظًا (1) .
هذا حديث صحيح بالزِّيادة على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3337 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: فَرَدُّوْآ اَیْدِیَھُمْ فِیْٓ اَفْوَاھِھِمْ (ابراہیم: 9) تو وہ اپنے ہاتھ اپنے منہ کی طرف لے گئے ۔ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے اپنا ہاتھ منہ میں ڈال کر دانتوں سے چبا کر فرمایا: یوں (وہ لوگ اپنے ہاتھ منہ میں لے گئے تھے) پھر فرمایا: انہوں نے غصے میں اپنی انگلیوں کو دانتوں سے چبایا۔ ٭٭ یہ حدیث اس زیادتی کے ہمراہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3377]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3377 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وهو في "تفسير عبد الرزاق" 1/ 341، ومن طريق عبد الرزاق أخرجه أيضًا الطبري 13/ 188.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "تفسیر عبدالرزاق" (1/ 341) میں ہے، اور عبدالرزاق کے طریق سے اسے طبری (13/ 188) نے بھی روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبري 13/ 188، والطبراني في "المعجم الكبير" (9118) و (9119) من طرق عن سفيان الثوري، به. وانظر ما قبله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری (13/ 188) اور طبرانی (المعجم الکبیر: 9118، 9119) نے سفیان ثوری سے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔ اور جو اس سے پہلے ہے اسے دیکھ لیں۔