المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
143. أجمع آية فى القرآن للخير والشر
قرآن کی سب سے جامع آیت جو خیر اور شر دونوں کو بیان کرتی ہے
حدیث نمبر: 3398
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا المُعتمِر بن سليمان قال: سمعت منصورَ بن المعتمِر يُحدِّث عن عامرٍ قال: جَلَسَ شُتَيرُ بن شَكَل ومسروقُ بن الأجدَع، فقال أحدهما لصاحبه: حَدِّثْ بما سمعتَ من عبد الله وأُصدِّقُك أو أحدِّثُك وتصدِّقني، قال: سمعتُ عبدَ الله يقول: إنَّ أَجمَعَ آيةٍ في القرآن للخير والشرِّ في سورة النحل: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾ [النحل: 90] ، قال: صدقتَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3358 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3358 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ شتیر بن شکل رضی اللہ عنہ اور مسروق بن الاجدع رضی اللہ عنہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تم کوئی عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرو جس کی میں تصدیق کروں یا میں تمہیں روایت سناتا ہوں اور تم میری تصدیق کرنا۔ اس نے کہا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قرآن پاک میں خیر و شر کی سب سے زیادہ جامعہ آیت سورۃ النحل میں ہے (وہ یہ ہے): اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰی وَ یَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَ الْمُنْکَرِ وَ الْبَغْیِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ (النحل: 90) ” بے شک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان دو “ انہوں نے کہا: تم نے بالکل سچ کہا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3398]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3398 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، وعامر: هو ابن شَراحيل الشعبي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اسحاق بن ابراہیم: یہ ابن راہویہ ہیں، اور عامر: یہ ابن شراحیل شعبی ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (2216) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (2216) میں ابوعبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبري 14/ 163، والطبراني (8658) من طريق حجاج بن المنهال، عن معتمر بن سليمان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری (14/ 163) اور طبرانی (8658) نے حجاج بن منہال کے طریق سے، معتمر بن سلیمان سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبري 14/ 163 من طريق جرير بن عبد الحميد، عن منصور به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے طبری (14/ 163) نے جریر بن عبدالحمید کے طریق سے، منصور سے، اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق في "مصنفه" (6002)، والطبراني (8659) و (8660) من طرق عن عامر الشعبي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبدالرزاق نے "مصنف" (6002) اور طبرانی (8659، 8660) نے عامر شعبی سے مختلف طریقوں سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري في "الأدب المفرد" (489)، والطبراني (8661) من طريق عاصم بن أبي النجود، عن أبي الضحى قال: اجتمع مسروق وشتير …
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری نے "الادب المفرد" (489) اور طبرانی (8661) نے عاصم بن ابی النجود کے طریق سے، ابوالضحیٰ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: مسروق اور شتیر جمع ہوئے...