المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
143. أجمع آية فى القرآن للخير والشر
قرآن کی سب سے جامع آیت جو خیر اور شر دونوں کو بیان کرتی ہے
حدیث نمبر: 3401
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا علي بن الحسين بن واقدٍ، حدثني أَبي، عن يزيد النَّحْوي، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ﴾ الآية [البقرة: 106] ، وقال في سورة النحل: ﴿وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ﴾ [النحل: 101] ، وقال في قوله ﷿: ﴿ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا﴾ الآية [النحل: 110] ، قال: هو عبد الله بن سَعْد - أو غيرُه - الذي كان واليًا بمصرَ يَكتُبُ لرسول الله ﷺ، فزَلَّ فلَحِقَ بالكفَّار، فأَمَرَ به رسولُ الله ﷺ أن يُقتَلَ يومَ الفتح، فاستجار [له] عثمانُ بنُ عفَّان رسولَ الله ﷺ، فأجاره رسولُ الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3361 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3361 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: مَا نَنْسَخْ مِنْ ایَۃٍ (البقرۃ: 106) ” جب کوئی آیت ہم منسوخ فرمائیں “۔ اور سورۃ النحل میں فرمایا: وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ (النحل: 101) ” اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیں “۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا (النحل: 110) ” پھر بے شک تمہارا رب ان کے لیے جنہوں نے اپنے گھر چھوڑے بعد اس کے کہ ستائے گئے “۔ (،) کے متعلق فرماتے ہیں: یہ عبداللہ بن سعد یا کوئی دوسرا آدمی ہے جو کہ والی مصر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب تھا، پھر یہ مرتد ہو گیا اور کافروں میں جا ملا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن اس کے قتل کا حکم فرما دیا تھا لیکن سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے پناہ مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پناہ دے دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3401]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3401 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل علي بن الحسين بن واقد، وقد تابعه إبراهيم بن هلال فيما سيأتي برقم (4409)، والحسين بن واقد قوي الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث قوی ہے، اور علی بن حسین بن واقد کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے، اور ابراہیم بن ہلال نے آگے آنے والی رقم (4409) میں ان کی متابعت کی ہے، اور حسین بن واقد قوی الحدیث ہیں۔
وأخرجه النسائي (3518) عن زكريا بن يحيى، عن إسحاق بن إبراهيم - وهو ابن راهويه - بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (3518) نے زکریا بن یحییٰ سے، انہوں نے اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه دون ذكر الآيات أبو داود (4358) عن أحمد بن محمد المروزي، عن علي بن الحسين بن واقد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے آیات کے ذکر کے بغیر ابوداود (4358) نے احمد بن محمد مروزی سے، انہوں نے علی بن حسین بن واقد سے، اسی طرح روایت کیا ہے۔
وعبد الله بن سعد هذا: هو ابن أبي سَرْح القرشي العامري، من عامر بن لؤي بن غالب، وهو أخو عثمان بن عفان من الرَّضاعة. انظر "سير أعلام النبلاء" 3/ 33.
📝 نوٹ / توضیح: یہ عبداللہ بن سعد: ابن ابی سرح قرشی عامری ہیں (عامر بن لؤی بن غالب سے)، اور یہ عثمان بن عفان کے رضاعی بھائی ہیں۔ دیکھئے "سیر اعلام النبلاء" (3/ 33)۔