المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
147. تَفْسِيرُ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ
سورۂ بنی اسرائیل کی تفسیر
حدیث نمبر: 3409
أخبرنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخوَّاص، حدثنا علي بن عبد العزيز البَغَوي، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن عاصم بن أبي النَّجُود، عن زِرِّ بن حُبَيش قال: كنت في مَجلس فيه حُذَيفةُ بن اليَمَان، فقلتُ: إنَّ رسول الله ﷺ حيث أُسرِيَ به دَخَلَ المسجدَ الأقصى، قال: فقال حُذَيفة: وكيف عَلِمتَ ذلك يا أَصلَعُ؟ فإني أعرفُ وجهَك ولا أدري ما اسمُك، فما اسمُك؟ فقلت له: أنا زِرُّ بن حُبَيش الأَسَديّ، قال: ثم قال: كيف عَلِمتَ أنه دَخَلَ المسجدَ؟ قال: فقلت: بالقرآن، فقال حذيفةُ: فمَن أَخَذَ بالقرآن فَلَحَ، قال: فقرأتُ: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ﴾ [الإسراء: 1] ، فقال حذيفةُ: هل تُرَاه أنه دَخَلَه؟ فقلت: أَجل، فقال: والله ما دَخَلَه، ولو دَخَلَه لكُتِبَ عليكم الصلاةُ فيه، قال: ثم قال: ولا يُفارِقُ ظَهْرَ البُراقِ حتى رأى الجنةَ والنارَ، ووَعْدَ الآخرةِ أَجمَعَ، قال: قلت: يا أبا عبد الله، فما البراقُ؟ قال: دابَّةٌ فوقَ الحمارِ ودونَ البَغْلةِ، خَطْوتُه مدَّ بَصَرِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3369 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3369 - صحيح
زر بن حبیش سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک مجلس میں تھا جس میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، تو میں نے کہا: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی تو آپ مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے تھے۔“ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اے گنجے شخص! تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ میں تمہارا چہرہ تو پہچانتا ہوں لیکن تمہارا نام نہیں جانتا، تمہارا نام کیا ہے؟“ میں نے انہیں بتایا: ”میں زر بن حبیش اسدی ہوں۔“ انہوں نے پھر پوچھا: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تھے؟“ میں نے کہا: ”قرآن سے۔“ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے قرآن کو تھام لیا وہ کامیاب ہو گیا۔“ میں نے یہ آیت پڑھی: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ﴾ ”پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے۔“ [سورة الإسراء: 1] تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا تمہارا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں داخل ہوئے تھے؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں داخل نہیں ہوئے تھے، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں داخل ہوتے تو تم پر اس میں نماز پڑھنا فرض کر دی جاتی۔“ پھر انہوں نے مزید فرمایا: ”اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے براق کی پیٹھ نہیں چھوڑی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت اور جہنم اور آخرت کے تمام وعدوں کو دیکھ لیا۔“ میں نے پوچھا: ”اے ابوعبداللہ! براق کیا چیز ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ ایک سواری ہے جو گدھے سے بڑی اور خچر سے چھوٹی ہے، اور اس کا قدم وہاں پڑتا ہے جہاں تک اس کی نگاہ جاتی ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3409]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3409]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عاصم بن أبي النجود، وكذا أبي بكر بن عياش وهو متابع.» [ترقيم الرساله 3409] [ترقيم الشركة 3389] [ترقيم العلميه 3369]
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل عاصم بن أبي النجود
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3409 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل عاصم بن أبي النجود، وكذا أبي بكر بن عياش وهو متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس حدیث کی سند "حسن" (عمدہ) درجے کی ہے، جس کی بنیادی وجہ راوی "عاصم بن ابی النجود" ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسی طرح راوی "ابو بکر بن عیاش" بھی موجود ہیں اور وہ یہاں بطور "متابع" (تائید کنندہ راوی) کے آئے ہیں (جو روایت کو تقویت دے رہے ہیں)۔
وأخرجه أحمد 38/ (23285) و (23320) و (2332) و (23343)، والترمذي (3147)، والنسائي (11216)، وابن حبان (45) من طرق عن عاصم بن أبي النجود، به - وبعضهم اختصره.
📖 حوالہ / مصدر: اس حدیث کی تخریج امام احمد نے جلد 38 کے نمبر (23285)، (23320)، (2332) اور (23343) پر، امام ترمذی نے نمبر (3147) پر، امام نسائی نے نمبر (11216) پر اور ابن حبان نے نمبر (45) پر کی ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہ تمام تخریجات مختلف طرق (سندوں) کے ساتھ مرکزی راوی "عاصم بن ابی النجود" سے مروی ہیں، اسی سند و متن کے ساتھ، البتہ بعض محدثین نے اس روایت کو "مختصر" (Shortened) بیان کیا ہے۔
وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے (اس روایت پر حکم لگاتے ہوئے) فرمایا ہے کہ یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔
قلنا: وقد روى أنس بن مالك عند مسلم (162) (259): أنَّ رسول الله ﷺ لما جاءَ بيتَ المقدس ربط الدابة بالحَلْقة التي يَربِطُ فيها الأنبياءُ، ثم صلَّى فيه ركعتين.
🧩 متابعات و شواہد: ہم (محققین) کہتے ہیں کہ اس مضمون کی تائید میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے صحیح مسلم، نمبر (162) اور (259) میں روایت بیان کی ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اس روایت میں ہے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت المقدس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے اپنی سواری (براق) کو اس کڑے (Ring) کے ساتھ باندھا جس کے ساتھ انبیائے کرام (اپنی سواریاں) باندھا کرتے تھے، پھر آپ ﷺ نے وہاں دو رکعت نماز ادا کی۔
وروى أبو هريرة عند مسلم أيضًا (172): أنَّ النبي ﷺ صلَّى بالأنبياء.
🧩 متابعات و شواہد: اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی صحیح مسلم میں نمبر (172) کے تحت روایت بیان کی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اس روایت میں صراحت ہے کہ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (شبِ معراج) تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی امامت فرمائی (انہیں نماز پڑھائی)۔
قال الإمام الطحاوي في "شرح مشكل الآثار" 12/ 544: وكان ما رويناه عن ابن مسعود (وهو مرويٌّ عنده بإسناد ضعيف) وأنس وأبي هريرة عن رسول الله ﷺ من إثباتِ صلاة رسول الله ﷺ هل هناك أَولى من نفي حذيفة أن يكون صلَّى هناك، لأنَّ إثبات الأشياء أَولى من نفيها، ولأنَّ الذي قاله حذيفة: إنَّ رسول الله ﷺ لو كان صلَّى هناك، لوجَبَ على أمَّته أن يأتوا ذلك المكان ويُصلُّوا فيه كما فعل ﷺ، فإنَّ ذلك ممّا لا حُجَّةَ لحذيفة فيه، إذ كان رسول الله ﷺ قد كان يأتي مواضعَ ويصلِّي فيها، لم يُكتَب علينا إتيانها، ولا الصلواتُ فيها.
📖 حوالہ / مصدر: امام طحاوی رحمہ اللہ "شرح مشکل الآثار" (جلد 12، صفحہ 544) میں فرماتے ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: ہم نے جو روایات سیدنا ابن مسعود (اگرچہ ان سے یہ روایت ضعیف سند سے مروی ہے)، سیدنا انس اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ ﷺ کے (بیت المقدس میں) نماز پڑھنے کے اثبات میں بیان کی ہیں، وہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے اس نفی کرنے سے زیادہ بہتر اور اولیٰ ہیں کہ آپ ﷺ نے وہاں نماز نہیں پڑھی۔ 📚 مجموعی اصول / قاعدہ: (اصول یہ ہے کہ) چیزوں کا اثبات (ہونا)، ان کی نفی (نہ ہونے) سے اولیٰ اور مقدم ہوتا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جو دلیل دی کہ "اگر رسول اللہ ﷺ وہاں نماز پڑھتے تو آپ کی امت پر واجب ہو جاتا کہ وہ اس جگہ آئیں اور نماز پڑھیں جیسا کہ آپ ﷺ نے کیا"، تو اس میں سیدنا حذیفہ کے لیے کوئی (مضبوط) حجت نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کئی مقامات پر تشریف لائے اور وہاں نمازیں پڑھیں، مگر ہم پر ان مقامات پر جانا اور وہاں نمازیں پڑھنا فرض نہیں کیا گیا۔
وبنحوه قال الإمام البيهقي في "دلائل النبوة" 2/ 365.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسی طرح کی بات امام بیہقی رحمہ اللہ نے "دلائل النبوۃ" (جلد 2، صفحہ 365) میں کہی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3409 in Urdu