🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
146. أصيب يوم أحد من الأنصار والمهاجرين سبعون رجلا وفيهم حمزة
غزوۂ احد کے دن انصار اور مہاجرین میں سے ستر افراد شہید ہوئے جن میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3408
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا الفضل بن موسى، حدثنا عيسى بن عُبيد، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَةِ قال: حدثني أُبيُّ بن كَعْب قال: لما كان يومُ أُحدٍ أُصيبَ من الأنصار أربعةٌ وستُّون رجلًا ومنهم ستةٌ، فمَثَّلوا بهم، وفيهم حمزةُ، فقالت الأنصار: لَئِن أَصَبْناهم يومًا مثلَ هذا لنُربِيَنَّ عليهم، فلما كان يومُ فتح مكةَ أَنزَلَ الله ﷿ ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾ [النحل: 126] ، فقال رجل: لا قريشَ بعدَ اليوم، فقال رسول الله ﷺ:"كفُّوا عن القومِ غيرَ أربعةٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم الفاضل أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر ربيع الأول سنة أربع مئة قال: [17 - ومن تفسير سورة بني إسرائيل]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3368 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ غزوۂ احد میں 64 انصاری اور 6 مہاجر صحابی شہید ہوئے۔ ان میں سے کچھ صحابہ کے چہروں کی بے حرمتی کی گئی، ان میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انصاری صحابہ نے کہا: اگر کسی دن یہ ہمارے قابو آ گئے تو ہم ان سے اس سے بھی سخت بدلہ لیں گے۔ تو جب مکہ فتح ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَھُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ (النحل: 126) اور اگر تم سزا دو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی تھی اور اگر تم صبر کرو تو بے شک صبر والوں کو صبر اچھا ہے ۔ تو ایک آدمی نے کہا: آج کے بعد کوئی قریشی نہیں رہے گا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 4 آدمیوں کے سوا باقی قوم سے ہاتھ روک لو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3408]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3408 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل عيسى بن عبيد: وهو ابن مالك الكندي. إسحاق: هو ابن راهويه، وأبو العالية: هو رُفيع الرِّياحي. وسيأتي مكررًا برقم (3708).
⚖️ درجۂ حدیث: عیسیٰ بن عبید (ابن مالک الکندی) کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اسحاق: یہ ابن راہویہ ہیں، اور ابوالعالیہ: یہ رفیع الریاحی ہیں۔ یہ رقم (3708) پر مکرر آئے گا۔
وأخرجه ابن حبان (487) عن عبد الله بن محمد الأزدي، عن إسحاق بن إبراهيم - وهو ابن راهويه - بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (487) نے عبداللہ بن محمد الازدی سے، انہوں نے اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه عبد الله بن أحمد في زياداته على "المسند" 35/ (21229)، والترمذي (3129)، والنسائي (11215) من طريقين عن الفضل بن موسى، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی کی مثل عبداللہ بن احمد نے "مسند" کے زوائد (35/ 21229)، ترمذی (3129) اور نسائی (11215) نے فضل بن موسیٰ سے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد (21230) من طريق أبي تُميلة يحيى بن واضح، عن عيسى بن عبيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس روایت کی تخریج عبد اللہ بن احمد نے اپنی کتاب (مسند احمد کے زوائد) میں نمبر (21230) کے تحت کی ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہ تخریج انہوں نے ابو تمیلہ یحییٰ بن واضح کے طریق (سند) سے کی ہے، انہوں نے اسے عیسیٰ بن عبید سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اسی سند و متن کے ساتھ (بہ) بیان کیا ہے۔