🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
148. قال جبرئيل بأصبعه فخرق بها الحجر وشد به البراق
سیدنا جبرئیل علیہ السلام نے اپنی انگلی سے پتھر میں سوراخ کیا اور اسی سے براق کو باندھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3412
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامِرِي، حدثنا أبو أُسامة، حدثنا الأعمش، عن عبد الملك بن مَيسَرة، عن طاووس قال: كنتُ عند ابن عبَّاس ومعنا رجلٌ من القَدَريَّة، فقلت: إنَّ أُناسًا يقولون: لا قَدَرَ، قال: أوَفي القوم أحدٌ منهم؟ قال: قلت: لو كان، ما كنتَ تَصنَعُ؟ قال: لو كان فيهم أحدٌ منهم لأخذتُ برأسِه، ثم قرأتُ عليه آيةَ كذا وكذا: ﴿وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا﴾ [الإسراء: 4] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3372 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا طاؤس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں موجود تھا اور ہم میں (فرقہ) قدریہ کا بھی ایک آدمی موجود تھا۔ میں نے کہا: لوگ کہتے ہیں کوئی قدر (یعنی تقدیر) نہیں ہے۔ اس نے کہا: کیا ان میں سے کوئی شخص اس مجلس میں موجود ہے؟ میں نے کہا: اگر موجود ہوا بھی سہی تو تم اس کے ساتھ کیا کرو گے؟ اس نے کہا: اگر ان میں سے کوئی آدمی یہاں موجود ہوا تو میں اس کے سر کو پکڑ کر یہ آیت پڑھ کر سناؤں گا: وَقَضَیْنَآ اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ فِی الْکِتٰابِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیْرًا (الاسراء: 4) ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں وحی بھیجی کہ ضرور تم زمین میں دو بار فساد مچا گے اور ضرور بڑا غرور کرو گے ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3412]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3412 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة، والأعمش: هو سليمان بن مهران.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی "ابو اسامہ" سے مراد حماد بن اسامہ ہیں، اور "الأعمش" سے مراد سلیمان بن مہران ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "القضاء والقدر" (328) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام بیہقی نے کتاب "القضاء والقدر" (328) میں ابو عبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في "السنة" (922)، والفريابي في "القدر" (265)، والآجري في "الشريعة" (453)، وابن بطة في "الإبانة الكبرى" 4/ 162 - 163 من طريق أبي معاوية، عن الأعمش، به - وقرن به ابن بطة طريق أسباط بن محمد عن الأعمش.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج عبد اللہ بن احمد نے "السُّنۃ" (922)، فریابی نے "القدر" (265)، آجری نے "الشریعۃ" (453)، اور ابن بطہ نے "الإبانۃ الکبریٰ" (جلد 4، صفحہ 162-163) میں ابو معاویہ کے طریق سے، انہوں نے اعمش سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اور ابن بطہ نے اس کے ساتھ "اسباط بن محمد عن الاعمش" کے طریق کو بھی ملایا ہے۔