المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
148. قال جبرئيل بأصبعه فخرق بها الحجر وشد به البراق
سیدنا جبرئیل علیہ السلام نے اپنی انگلی سے پتھر میں سوراخ کیا اور اسی سے براق کو باندھا
حدیث نمبر: 3414
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد بن يحيى الشَّهيد، حدثنا أبو الوليد الطَّيَالسي، حدثنا ليث بن سَعْد، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال، عن أنس بن مالك: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، إني ذو مالٍ كثيرٍ، وذو أهْلٍ ووَلَد، فكيف يَجِبُ لي أن أَصنعَ أو أُنفِقَ؟ قال:"أدِّ الزكاةَ المفروضةَ طُهْرةً تُطَهِّرُك، وآتِ صِلَةَ الرَّحِم واعرِفْ حقَّ السائلِ والجارِ والمسكين"، قال: يا رسولَ الله، أَقلِلْ لي؟ قال:"فآتِ ذَا القُربَى حقَّه والمسكينَ وابنَ السَّبيل ولا تُبذِّرْ تبذيرًا"، قال: يا رسول الله، إذا أدَّيتُ الزكاةَ إلى رسول (1) رسولِ الله، فقد أدَّيتُها إلى الله وإلى رسوله؟ قال:"نعم، إذا أدَّيتَها إلى رسوله (2) ، فقد أدَّيتَها ولك أجرُها، وعلى مَن بَدَّلَها إثمُها" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3374 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3374 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس کثیر مال و دولت بھی ہے اور میں صاحب اہل و عیال بھی ہوں تو میرے اوپر کیا فرض ہے؟ میں کیا کروں یا کیا خرچ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرض زکوۃ ادا کر دیا کر یہ تجھے پاک کر دے گی اور صلہ رحمی کر۔ سوالی، پڑوسی، مسکین اور مسافر کا حق پہچان، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے کچھ کمی کیجئے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دو اور فضول خرچی مت کرو۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو زکوۃ دے دوں تو کیا میں یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب ادائیگی سمجھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ جب تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کو زکوۃ دے دی تو تیری زکوۃ ادا ہو گئی اور تیرے لیے اس کا اجر ہو گا اور جو اس کو بدلے گا اس پر اس کا گناہ ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3414]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3414 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) لفظ "رسول" من (ع) وحدها، وأُثبت على حاشية (ص) استظهارًا، وسقط من (ز) و (ب)، وإثباته هو الصواب، وتدلُّ عليه رواية أبي النضر هاشم بن القاسم عن الليث عند أحمد وغيره إذ فيها: إذا أديتُ الزكاة إلى رسولك …
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) لفظ "رسول" صرف نسخہ (ع) میں موجود ہے، اور نسخہ (ص) کے حاشیے پر احتیاطاً (استظہاراً) لکھا گیا ہے، جبکہ (ز) اور (ب) سے یہ ساقط ہے۔ اس کا اثبات (ہونا) ہی درست ہے، جس کی دلیل ابو النضر ہاشم بن قاسم کی وہ روایت ہے جو انہوں نے لیث سے بیان کی ہے اور وہ مسند احمد وغیرہ میں ہے، کیونکہ اس میں الفاظ ہیں: "جب میں نے تیرے رسول کو زکوٰۃ ادا کر دی..."
(2) في (ز): رسول الله، وهو خطأ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) نسخہ (ز) میں "رسول اللہ" کے الفاظ ہیں، جو کہ غلطی ہے۔
(3) إسناده ضعيف لانقطاعه، سعيد بن أبي هلال لا يُعرف له سماع من أنس، وقد بيَّن ابن وهب في "جامعه" (200) - ومن طريقه البيهقي 4/ 97 - أنَّ بينهما في هذا الحديث واسطة مُبهَمة. أبو الوليد الطيالسي: هو هشام بن عبد الملك.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی سند "منقطع" ہونے کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ سعید بن ابی ہلال کا سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع (سننا) معروف نہیں ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور ابن وہب نے اپنی کتاب "الجامع" (200) میں - اور انہی کے طریق سے بیہقی نے (جلد 4، صفحہ 97) میں - واضح کیا ہے کہ اس حدیث میں ان دونوں کے درمیان ایک "مبہم واسطہ" (نامعلوم راوی) موجود ہے۔ ابو الولید طیالسی سے مراد ہشام بن عبد الملک ہیں۔
وأخرجه أبو عبيد في "الناسخ والمنسوخ" (46)، وأحمد (19/ 12394)، والحارث بن أبي أسامة (288 - بغية الباحث) عن أبي النضر هاشم بن القاسم، والطبراني في "الأوسط" (8802) من طريق عبد الله بن صالح، كلاهما عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج ابو عبید نے "الناسخ والمنسوخ" (46) میں، امام احمد نے (جلد 19، نمبر 12394) میں، اور حارث بن ابی اسامہ نے (288 - بغیۃ الباحث) میں ابو النضر ہاشم بن قاسم کے واسطے سے کی ہے۔ نیز طبرانی نے "الاوسط" (8802) میں عبد اللہ بن صالح کے طریق سے کی ہے۔ یہ دونوں (ابو النضر اور عبد اللہ بن صالح) لیث بن سعد سے، اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔