المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
156. صُعُودُ عَلِيٍّ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ وَإِلْقَاءُ الصَّنَمِ عَنْ سَقْفِ الْكَعْبَةِ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ ﷺ کے کندھوں پر چڑھ کر کعبہ کی چھت سے بت گرانا
حدیث نمبر: 3430
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، أخبرنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا داود بن أبي هند، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: نَزَلَ القرآنُ جُمْلةً إلى السماءِ الدنيا، ثم نَزَلَ بعدَ ذلك في عشرينَ سنةً، وقال ﷿: ﴿وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا﴾ [الفرقان: 33] ، قال: ﴿وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا﴾ [الإسراء: 106] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [18 - ومن تفسير سورة الكهف] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3390 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [18 - ومن تفسير سورة الكهف] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3390 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”قرآن مجید ایک ہی دفعہ (لوح محفوظ سے) آسمانِ دنیا کی طرف نازل کیا گیا، پھر اس کے بعد بیس سال کے عرصے میں (تھوڑا تھوڑا کر کے) نازل ہوا۔“ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا﴾ ”اور یہ لوگ آپ کے پاس جو بھی کوئی مثال لائیں گے، ہم آپ کے پاس حق اور اس سے بہتر تفسیر لے آئیں گے۔“ [سورة الفرقان: 33] کے متعلق انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ آیت ہے: ﴿وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا﴾ ”اور ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا تاکہ آپ اسے لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سنائیں، اور ہم نے اسے بتدریج نازل کیا ہے۔“ [سورة الإسراء: 106]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3430]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3430]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي. وقد سلف برقم (2915) من طريق يزيد بن هارون عن داود بن أبي هند.» [ترقيم الرساله 3430] [ترقيم الشركة 3410] [ترقيم العلميه 3390]
الحكم على الحديث: إسناده قوي.
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3430 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي. وقد سلف برقم (2915) من طريق يزيد بن هارون عن داود بن أبي هند.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "قوی" ہے۔ یہ پہلے نمبر (2915) پر گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3430 in Urdu