المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
156. صُعُودُ عَلِيٍّ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ وَإِلْقَاءُ الصَّنَمِ عَنْ سَقْفِ الْكَعْبَةِ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ ﷺ کے کندھوں پر چڑھ کر کعبہ کی چھت سے بت گرانا
حدیث نمبر: 3427
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف بن شَجَرة القاضي إملاءً، حدثنا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حدثنا شَبَابةُ بن سَوّار، حدثنا نُعَيم بن حَكيم، حدثنا أبو مريم، عن علي بن أبي طالب قال: انطلَقَ بي رسولُ الله ﷺ حتى أَتى بي الكعبةَ، فقال لي:"اجلسْ" فجلستُ إلى جَنْب الكعبة، فصَعِدَ رسولُ الله ﷺ بمَنكِبيّ، ثم قال لي:"انهَضْ" فنهضتُ، فلمّا رأى ضَعْفي تحتَه قال لي:"اجلِسْ" فنزلتُ وجلستُ، ثم قال لي:"يا عليُّ، اصعَدْ على مَنكِبيَّ"، فصَعِدتُ على مَنكِبَيه، ثم نَهَضَ بي رسولُ الله ﷺ، فلما نَهَضَ بي خُيِّلَ إليَّ لو شئتُ نِلتُ أفُقَ السماء، فصَعِدتُ فوقَ الكعبة، وتنحَّى رسولُ الله ﷺ، فقال لي:"أَلْقِ صنمَهم الأكبرَ، صنمَ قُريش"، وكان من نحاسٍ مُوتَدًا بأوتادٍ من حديد إلى الأرض، فقال لي رسول الله ﷺ:"عالِجْه"، ورسول الله ﷺ يقول لي:"إيهِ إيهِ ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [الإسراء: 81] "، فلم أزَلْ أعالجُه حتى استمكنتُ منه، فقال:"اقذِفْه"، فقَذَفته، فتكسَّر ونَزَوتُ من فوقِ الكعبة، فانطلقتُ أنا والنبيُّ ﷺ نَسعَى، وخَشِينا أن يرانا أحدٌ من قريش أو غيرهم، قال علي: فما صُعِدَ به حتى الساعةِ (2) .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے ہمراہ لے کر چل دیئے اور کعبۃ اللہ میں لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں کعبہ کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے کندھوں پر سوار ہو گئے اور مجھے فرمایا: اٹھو! میں اٹھا، لیکن جب آپ نے میری کمزوری اور ضعف کو دیکھا تو مجھے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں بیٹھ گیا، پھر آپ نے مجھ سے کہا: اے علی! تم میرے کندھوں پر چڑھو، میں آپ کے کندھوں پر چڑھ گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اوپر اٹھایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اوپر اٹھا لیا (تو اس قدر بلند ہو چکا تھا) مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اگر میں چاہوں تو آسمان کے کناروں کو ہاتھ لگا سکتا ہوں، پھر میں کعبہ کے اوپر چڑھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے سے ہٹ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ان کے بڑے بت کو گراؤ، وہ قریش کا بت تھا۔ وہ تانبے کا بنا ہوا تھا اور لوہے کی کیلوں کے ساتھ زمین کے ساتھ ٹھونکا ہوا تھا۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا علاج کر دو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہہ رہے تھے اور کرو، اور کرو: وَقُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا (الاسراء: 81) ” اور فرمایا کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل کو مٹنا ہی تھا “۔ میں اس کو مسلسل توڑتا رہا حتیٰ کہ اس کو زمین سے اکھیڑ ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو پھینک دو، میں نے اس کو پھینک دیا، تو وہ ٹوٹ گیا اور میں نے کعبہ کے اوپر سے نیچے چھلانگ لگا دی۔ پھر میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیز تیز چلتے ہوئے وہاں سے نکل آئے کیونکہ ہمیں خدشہ تھا کہ قریش یا دوسرے قبیلے کا کوئی آدمی ہمیں نہ دیکھ لے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آج تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور کسی کو (اپنے کندھوں پر) نہیں چڑھایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3427]
حدیث نمبر: 3428
أخبرَناه أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحَنظَلي، أخبرنا شَبَابةُ بن سَوَّار، فذكره بمثله.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3387 - إسناده نظيف والمتن منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3387 - إسناده نظيف والمتن منكر
مذکورہ سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3428]
حدیث نمبر: 3429
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا الوليد بن عبد الله بن جُمَيع، عن أبي الطُّفَيل عامر بن واثلةَ، عن حُذَيفة بن أَسِيد أبي سَرِيحة الغِفاري قال: سمعتُ أبا ذرٍّ الغِفَاريَّ وتَلا هذه الآية: ﴿وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا﴾ [الإسراء: 97] ، فقال أبو ذر: وحدَّثني الصادقُ المصدوقُ ﷺ:"أنَّ الناس يُحشَرون يومَ القيامة على ثلاثةِ أفواجٍ: طاعِمِينَ كاسِينَ راكِبينَ، وفوجٍ يَمشُون ويَسعَوْن، وفوجٍ تَسحَبُهم الملائكةُ على وجوهِهم"، قلنا: قد عَرَفْنا هذَينِ، فما تلك الذين يَمْشُون ويَسعَوْن؟ قال:"يُلقِي اللهُ الآفةَ على الظَّهْر حتى لا تبقى ذاتُ ظهرٍ، حتى إنَّ الرجلَ ليُعطِي الحديقةَ المُعجِبةَ بالشَّاردةِ ذاتِ القَتَبِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3389 - على شرط مسلم ولكنه منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3389 - على شرط مسلم ولكنه منكر
سیدنا ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: وَنَحْشُرُھُمْ یَوْمَ الْقِیاٰمَۃِ عَلٰی وَجُوْھِھِمْ عُمْیًا وَّبُکْمًا وَّ صُمًّا (الاسراء: 97) ” اور ہم انہیں قیامت کے دن ان کے منہ کے بل اٹھائیں گے اندھے اور گونگے اور بہرے “۔ اور فرمایا: مجھے صادق و مصدوق نے بتایا ہے: قیامت کے دن لوگ تین جماعتوں میں جمع کیے جائیں گے۔ (1) آسودہ حال سواریوں پر خرام ناز کرتے ہوئے۔ (2) ایک جماعت ایسی ہو گی جو پیدل چل رہے ہوں گے اور دوڑ رہے ہوں گے۔ (3) ایک جماعت ایسی ہو گی جن کو فرشتے منہ کے بل زمین پر گھسیٹتے ہوئے لائیں گے۔ ہم نے کہا: ہم ان دونوں جماعتوں کو تو جانتے ہیں لیکن یہ جماعت کون سی ہے جو پیدل چل رہے ہوں گے اور دوڑ رہے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پشت پر آفت ڈالے گا یہاں تک کہ کوئی صاحب پشت نہ رہے گا یہاں تک کہ آدمی زین والے ایک چھوٹے سے جانور کے بدلے ایک خوبصورت باغ پیش کرے گا (لیکن پھر بھی اس کو وہ جانور نہ ملے گا)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3429]
حدیث نمبر: 3430
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، أخبرنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا داود بن أبي هند، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: نَزَلَ القرآنُ جُمْلةً إلى السماءِ الدنيا، ثم نَزَلَ بعدَ ذلك في عشرينَ سنةً، وقال ﷿: ﴿وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا﴾ [الفرقان: 33] ، قال: ﴿وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا﴾ [الإسراء: 106] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [18 - ومن تفسير سورة الكهف] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3390 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [18 - ومن تفسير سورة الكهف] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3390 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: پورا قرآن یکبارگی آسمان دنیا پر نازل ہوا پھر اس کے بعد وہاں سے 20 سالوں میں تدریجاً نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَلَا یَاْتُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰکَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًا (الفرقان: 33) ” اور وہ کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے مگر ہم حق اور اس سے بہتر بیان لے آئیں گے “۔، وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰہُ لِتَقْرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ وَّ نَزَّلْنٰہُ تَنْزِیْلًا (الاسراء: 106) ” اور قرآن ہم نے جدا جدا کر کے اتارا کہ تم اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھو اور ہم نے اسے بتدریج رہ رہ کر اتارا “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3430]