المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
176. سُؤَالُ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَنِ السَّامِرِيِّ مِنْ صُنْعِهِ الْعِجْلَ وَجَوَابُهُ
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سامری سے سوال کہ اس نے بچھڑا کیسے بنایا اور اس کا جواب
حدیث نمبر: 3477
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا إبراهيم بن نافع قال: سمعت الحسنَ بن مُسلِم، يقول: سمعت سعيد بن جُبير يحدِّث عن ابن عبَّاس قال: خَلَقَ اللهُ آدمَ من أَدِيمِ الأرض كلِّها فسُمِّيَ آدمَ. قال إبراهيم بن نافع: فسمعت سعيدَ بن جُبير يقول: سألتُ ابن عبَّاس فقال: خَلَقَ اللهُ آدَمَ فنَسِيَ فسُمِّيَ الإنسانَ، فقال الله ﷿: ﴿وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا﴾ [طه: 115] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3436 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3436 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پوری زمین کی سطح «أَدِيمِ الأرض» سے پیدا کیا اسی لیے ان کا نام آدم رکھا گیا۔ ابراہیم بن نافع کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر کو یہ کہتے سنا کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا تو انہوں نے بتایا: اللہ نے آدم کو پیدا کیا تو وہ بھول گئے اسی لیے ان کا نام انسان (نسیان سے) رکھا گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا﴾ [سورة طه: 115] ”اور ہم نے اس سے پہلے آدم کو ایک حکم دیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں پختہ ارادہ نہ پایا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3477]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3477]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أحمد بن مهران: وهو ابن خالد الأصبهاني. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.» [ترقيم الرساله 3477] [ترقيم الشركة 3456] [ترقيم العلميه 3436]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3477 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل أحمد بن مهران: وهو ابن خالد الأصبهاني. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند احمد بن مہران (ابن خالد الاصبہانی) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ ابو نعیم: فضل بن دکین۔
وأخرجه البيهقي في "الأسماء والصفات" (816) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وأخرجه بنحوه ابن منده في "التوحيد" (73) و (76) من طريق أبي حاتم الرازي، عن أبي نعيم، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "الاسماء والصفات" (816) میں حاکم کے واسطے سے روایت کیا ہے، اور ابن مندہ نے "التوحید" (73، 76) میں ابو حاتم رازی کے طریق سے ابو نعیم سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مقطَّعًا عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 19، والطبري في "تفسيره" 1/ 214 و 15/ 161 و 16/ 221، وكذا ابن أبي حاتم 5/ 1443، والطبراني في "الصغير" (925)، وابن منده (74) و (77) من طرق عن سعيد بن جبير به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے "ٹکڑوں میں" (مقطعاً) عبد الرزاق، طبری، ابن ابی حاتم، طبرانی اور ابن مندہ نے سعید بن جبیر سے مختلف سندوں سے روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3477 in Urdu