المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
176. سُؤَالُ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَنِ السَّامِرِيِّ مِنْ صُنْعِهِ الْعِجْلَ وَجَوَابُهُ
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سامری سے سوال کہ اس نے بچھڑا کیسے بنایا اور اس کا جواب
حدیث نمبر: 3475
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن سليمان بن الحارث، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، حدثنا أبو إسحاق، عن عُمَارة بن عمرو السَّلُولي وأبي عبد الرحمن السُّلَمي، عن عليّ قال: لما تَعجَّل موسى إلى ربِّه عَمَدَ السامِرِيُّ فَجَمَعَ ما قَدَرَ عليه من الحُلِيِّ، حُليِّ بني إسرائيل، فضربه عِجلًا ثم أَلقى القَبْضةَ في جوفِه، فإذا هو عجلٌ له خُوَار، فقال لهم السامِريُّ: هذا إلهُكم وإلهُ موسى، فقال لهم هارون: يا قوم، ألم يَعِدْكم ربُّكم وعدًا حَسَنًا، فلما أن رَجَعَ موسى إلى بني إسرائيل وقد أضلَّهم السامريُّ أَخَذَ برأس أخيه، فقال له هارونُ ما قال، فقال موسى للسامريِّ: ما خطبُك؟ فقال السامِرِيُّ: قَبَضتُ قَبْضةً من أَثر الرسول فنَبَذتُها، وكذلك سَوَّلَت لي نفسي، قال: فعَمَدَ موسى إلى العجل فوضع عليه المباردَ فبَرَدُوه بها وهو على شَفَى (1) نهر، فما شرب أحدٌ من ذلك الماء ممَّن كان يَعبُد ذلك العجلَ إلَّا اصفرَّ وجهُه مثلَ الذهب، فقالوا لموسى: ما توبتُنا؟ قال: يقتلُ بعضُكم بعضًا، فأخذوا السكاكينَ، فجعل الرجلُ يَقتُل أباه وأخاه ولا يُبالي مَن قَتَلَ، حتى قُتِلَ منهم سبعون ألفًا، فأوحى الله إلى موسى: مُرهم فليَرفَعوا أيديَهم، فقد غَفَرتُ لمن قُتِلَ، وتُبْتُ على مَن بقيَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3434 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3434 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام اپنے رب کی طرف (طور پر) جلدی چلے گئے تو سامری نے ارادہ کیا اور بنی اسرائیل کے زیورات میں سے جو کچھ اسے مل سکا اسے جمع کیا اور اسے پگھلا کر ایک بچھڑا بنا لیا، پھر اس نے اس کے پیٹ میں مٹی کی وہ مٹھی ڈال دی (جو اس نے فرشتے کے نقش قدم سے لی تھی)، تو وہ یکایک بولنے والا بچھڑا بن گیا، پھر سامری نے ان سے کہا: ”یہ تمہارا اور موسیٰ کا معبود ہے،“ اس پر سیدنا ہارون علیہ السلام نے ان سے فرمایا: ”اے میری قوم! کیا تمہارے رب نے تم سے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟“ پھر جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف واپس آئے اور دیکھا کہ سامری نے انہیں گمراہ کر دیا ہے تو انہوں نے اپنے بھائی کا سر پکڑ لیا، جس پر ہارون علیہ السلام نے وہ کہا جو انہوں نے کہنا تھا، پھر موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے پوچھا: ”تیرا کیا معاملہ ہے؟“ سامری نے کہا: ”میں نے رسول (جبرائیل علیہ السلام) کے نشانِ قدم سے ایک مٹھی بھر لی تھی اور اسے (بچھڑے کے ڈھانچے میں) ڈال دیا، اور میرے جی نے مجھے یہی سجھایا،“ راوی کہتے ہیں: پھر موسیٰ علیہ السلام نے اس بچھڑے کا رخ کیا اور اسے ریتیوں سے رگڑ کر ایک نہر کے کنارے ریزہ ریزہ کر کے بہا دیا، چنانچہ اس بچھڑے کی عبادت کرنے والوں میں سے جس نے بھی وہ پانی پیا اس کا چہرہ سونے کی طرح زرد ہو گیا، انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا: ”ہماری توبہ کیا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”تم ایک دوسرے کو قتل کرو،“ چنانچہ انہوں نے چھریاں پکڑ لیں اور آدمی اپنے باپ اور بھائی کو قتل کرنے لگا اور اسے کوئی پرواہ نہ تھی کہ وہ کسے قتل کر رہا ہے، یہاں تک کہ ان میں سے ستر ہزار لوگ مارے گئے، تب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی: ”انہیں حکم دیں کہ وہ اپنے ہاتھ روک لیں، کیونکہ جو قتل ہو گئے میں نے انہیں بخش دیا ہے اور جو باقی رہ گئے ان کی توبہ قبول کر لی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3475]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3475]
تخریج الحدیث: «خبر موقوف إسناده قوي، من أجل محمد بن سليمان بن الحارث - وهو الباغَنْدي - وباقي رجاله ثقات غير عمارة بن عمرو السلولي فقد انفرد بالرواية عنه أبو إسحاق السَّبيعي، ولم يسمّ أباه عمرًا غير المصنف، وسمَّاه غيره عَبْدًا، هكذا وقع عند ابن سعد في "الطبقات" 8/ 347، والعجلي في ...» [ترقيم الرساله 3475] [ترقيم الشركة 3454] [ترقيم العلميه 3434]
الحكم على الحديث: خبر موقوف إسناده قوي
حدیث نمبر: 3476
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم الحَنظَلي، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا عفَّان، حدثنا أبو عَوَانة. وأخبرنا أبو الحسين، حدثنا جعفر، حدثنا سعد بن عبد الحميد، حدثنا هُشَيم (3) ، جميعًا عن أبي بِشْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس، قال: قال رسول الله ﷺ:"يَرحَمُ اللهُ موسى، ليس المعايِنُ كالمُخبَر، أخبره ربُّه أنَّ قومَه فُتِنوا بعده فلم يُلْقِ الألواحَ، فلما رآهم وعايَنَهم ألقى الألواح". وقال رسول الله ﷺ:"رَحِمَ اللهُ، موسى لو لم يَعجَلْ لقُصَّ من حديثه غيرُ الذي قُصَّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3435 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3435 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے، آنکھوں سے دیکھنا سنی سنائی خبر کی طرح نہیں ہوتا، ان کے رب نے انہیں خبر دی تھی کہ ان کے پیچھے ان کی قوم فتنے میں مبتلا ہو گئی ہے تو انہوں نے (اس وقت) تختیاں نہیں پھینکیں، لیکن جب انہوں نے انہیں خود دیکھ لیا تو (شدتِ جذبات میں) تختیاں پھینک دیں۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے، اگر وہ جلدی نہ کرتے تو ان کے قصے سے مزید واقعات بھی بیان کیے جاتے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3476]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3476]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وسعد بن عبد الحميد» [ترقيم الرساله 3476] [ترقيم الشركة 3455] [ترقيم العلميه 3435]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3477
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا إبراهيم بن نافع قال: سمعت الحسنَ بن مُسلِم، يقول: سمعت سعيد بن جُبير يحدِّث عن ابن عبَّاس قال: خَلَقَ اللهُ آدمَ من أَدِيمِ الأرض كلِّها فسُمِّيَ آدمَ. قال إبراهيم بن نافع: فسمعت سعيدَ بن جُبير يقول: سألتُ ابن عبَّاس فقال: خَلَقَ اللهُ آدَمَ فنَسِيَ فسُمِّيَ الإنسانَ، فقال الله ﷿: ﴿وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا﴾ [طه: 115] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3436 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3436 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پوری زمین کی سطح «أَدِيمِ الأرض» سے پیدا کیا اسی لیے ان کا نام آدم رکھا گیا۔ ابراہیم بن نافع کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر کو یہ کہتے سنا کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا تو انہوں نے بتایا: اللہ نے آدم کو پیدا کیا تو وہ بھول گئے اسی لیے ان کا نام انسان (نسیان سے) رکھا گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا﴾ [سورة طه: 115] ”اور ہم نے اس سے پہلے آدم کو ایک حکم دیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں پختہ ارادہ نہ پایا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3477]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3477]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أحمد بن مهران: وهو ابن خالد الأصبهاني. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.» [ترقيم الرساله 3477] [ترقيم الشركة 3456] [ترقيم العلميه 3436]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3478
أخبرني أبو جعفر محمد بن سليمان (1) المُذكِّر، حدثنا أبو بكر بن أبي الدُّنيا، حدثني عمرو بن محمد الناقد، حدثنا عبَّاد بن العوَّام، عن سفيان بن حُسين، عن يَعلَى بن مُسلِم، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: لما أَكَلَ آدمُ من الشجرة التي نُهِيَ عنها، قال الله ﷿: ما حَمَلَكَ على أَنْ عَصَيْتَني؟ قال: ربِّ زيَّنَتْه لي حوّاء، قال: فإني أعقَبتُها أن لا تَحْمِلَ إِلَّا كُرها ولا تَضَعَ إِلَّا كُرهًا، ودَمَّيْتُها في الشهر مرَّتين، فلما سَمِعَت حوَّاءُ ذلك رَنَّت، فقال لها: عليكِ الرَّنّةُ وعلى بناتِك (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3437 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3437 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب آدم علیہ السلام نے اس درخت سے کھا لیا جس سے انہیں منع کیا گیا تھا، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: ”تجھے میری نافرمانی پر کس چیز نے ابھارا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے میرے رب! حوا نے اسے میرے لیے مزین کر کے پیش کیا،“ اللہ نے فرمایا: ”تو میں نے اسے یہ سزا دی ہے کہ وہ حمل اور وضع حمل کی تکلیف برداشت کرے گی اور میں نے اسے مہینے میں دو بار خون جاری ہونے کی تکلیف دی،“ جب حوا نے یہ سنا تو وہ چلا اٹھیں، تو اللہ نے ان سے فرمایا: ”تجھ پر اور تیری بیٹیوں پر یہ رونا (لازم) کر دیا گیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3478]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3478]
تخریج الحدیث: «رجاله عن آخرهم ثقات غير شيخ المصنف أبي جعفر المذكِّر، فقد ذكر الحاكم فيما نقل عنه الحافظ ابن حجر في "لسان الميزان": أنه يحدِّث بعجائب، لكن هذا الخبر قد خرَّجه ابن أبي الدنيا في مصنفاته مثل "الرقة والبكاء" (307) و"العقوبات" (118)، فخرج من عُهدته والإسناد إلى ابن عبَّاس صحيح، والظاهر ...» [ترقيم الرساله 3478] [ترقيم الشركة 3457] [ترقيم العلميه 3437]
الحكم على الحديث: رجاله عن آخرهم ثقات غير شيخ المصنف أبي جعفر المذكِّر