🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
185. نزلت فى حمزة وأصحابه آية ( ولا تحسبن الذين قتلوا )
آیت ”اور جو اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو“ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3498
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأَزْدي، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن سفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: نزلت هذه الآيةُ في حمزةَ وأصحابه: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ [آل عمران: 169] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3457 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ آیت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَآء عِنْدَ رَبِّھِمْ (آل عمران: 169) اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہرگز انہیں مردہ خیال نہ کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3498]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3498 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث، وسفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابو اسحاق الفزاری: ابراہیم بن محمد بن الحارث، سفیان: الثوری۔
وقد سلف معناه في خبر أطول ممّا هنا برقم (2475) من رواية أبي الزبير عن سعيد بن جبير عن ابن عبَّاس مرفوعًا.
📝 نوٹ / توضیح: اس کا مفہوم ایک طویل خبر میں (2475) پر گزر چکا ہے۔