المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
185. نزلت فى حمزة وأصحابه آية ( ولا تحسبن الذين قتلوا )
آیت ”اور جو اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو“ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی
حدیث نمبر: 3499
أخبرنا الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا ابن المبارَك، أخبرنا سعيد بن يزيد، عن أبي السَّمْح، عن ابن حُجَيرة، عن أبي هريرة، وتلا قولَ الله ﷿: ﴿فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِنْ نَارٍ﴾ [الحج: 19] ، فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ الحميمَ ليُصَبُّ على رؤوسهم فيَنفُذُ الجُمجُمةَ حتى يَخلُصَ إلى جوفِه، فيَسلُتُ ما في جوفِه حتى يُمرِّقَ قَدَميه، وهو الصَّهْر، ثم يُعادُ كما كان" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3458 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3458 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَھُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ (الحج: 19) ” تو جو کافر ہوئے ان کے لیے آگ کے کپڑے بیونتے (کاٹے) جائیں گے “۔ پھر بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا جو اس کی کھوپڑی کو پھاڑ کر اس کے پیٹ میں پہنچے گا اور تمام انتڑیاں گلا دے گا حتیٰ کہ اس کے قدموں تک کو پگھلا کر ریزہ ریزہ کر دے گا پھر اس کو دوبارہ اسی طرح کر دیا جائے گا جیسے وہ پہلے تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3499]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3499 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده فيه ضعفٌ، أبو السَّمح - وهو درَّاج بن سِمعان - خُلاصة القول فيه أنه يعتبر به في المتابعات والشواهد فإذا انفرد ضُعِّف، وهذا ممّا انفرد به. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وابن حجيرة: هو عبد الرحمن.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند میں "ضعف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو السمح (دراج بن سمعان) متابعات میں قابل قبول ہیں لیکن انفراد میں ضعیف ہیں، اور یہاں یہ منفرد ہیں۔
وأخرجه أحمد (14/ 8864)، والترمذي (2582) من طريقين عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح غريب. وفيه عندهما: "حتى يمرق من قدميه".
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (14/ 8864) اور ترمذی (2582) نے عبد اللہ بن مبارک سے نکالا ہے۔ ترمذی نے کہا: "حسن صحیح غریب"۔
الحميم: الماء الحارُّ.
📝 نوٹ / توضیح: "الحمیم": گرم کھولتا ہوا پانی۔
فيسلُت: يقطع ويستأصل.
📝 نوٹ / توضیح: "فیسلُت": کاٹ ڈالنا اور جڑ سے اکھاڑ دینا۔
وقوله: "يمرّق قدميه" أي: يقطّعها وينثرها من شدة حرّه، من: تمرَّق الشَّعر وغيره: إذا انتثر وتساقط.
📝 نوٹ / توضیح: "یمرّق قدمیہ": یعنی شدتِ حرارت سے پاؤں کو کاٹ کر بکھیر دے گا۔