المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. من سئل عن علم فكتمه جيء به يوم القيامة وقد ألجم بلجام من نار
جس سے علم کے بارے میں سوال کیا جائے اور وہ اسے چھپائے، قیامت کے دن اس کے منہ پر آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔
حدیث نمبر: 350
فقد حدَّثنا بالحديث أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ قالا: حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن علي بن الحَكَم، عن رجل، عن عطاء، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"مَن سُئِلَ عن علمٍ عنده فكَتَمَه، ألْجَمَه اللهُ بِلِجَامٍ من نارٍ يومَ القيامة". فاستحسنه أبو عليٍّ واعترف لي به، ثم لمَّا جمعتُ البابَ وجدتُ جماعة ذكروا فيه سماعَ عطاء من أبي هريرة. ووجدنا الحديث بإسناد صحيح لا غبارَ عليه عن عبد الله بن عمرو:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص سے اس علم کے بارے میں پوچھا گیا جو اس کے پاس تھا اور اس نے اسے چھپا لیا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنا دے گا۔“
جب میں نے یہ سند پیش کی تو ابوعلی الحافظ نے اسے پسند کیا اور میری بات تسلیم کر لی، پھر جب میں نے اس باب کی تمام روایات جمع کیں تو مجھے ایک ایسی جماعت ملی جس نے اس میں عطاء کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے براہِ راست سماع ذکر کیا ہے، اور ہمیں یہ حدیث عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی ایک ایسی صحیح سند کے ساتھ ملی ہے جس پر کوئی غبار نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 350]
جب میں نے یہ سند پیش کی تو ابوعلی الحافظ نے اسے پسند کیا اور میری بات تسلیم کر لی، پھر جب میں نے اس باب کی تمام روایات جمع کیں تو مجھے ایک ایسی جماعت ملی جس نے اس میں عطاء کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے براہِ راست سماع ذکر کیا ہے، اور ہمیں یہ حدیث عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی ایک ایسی صحیح سند کے ساتھ ملی ہے جس پر کوئی غبار نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 350]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 350] [ترقيم الشركة 344]
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 350 in Urdu