🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
190. منع بيع جلد الأضحية
قربانی کی کھال بیچنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3510
حدثنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم العَدْل ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبرِقان، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا عبد الله بن عيَّاش بن عبَّاس، عن عبد الرحمن الأعرج، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن باع جلدَ أُضحيَّتِه، فلا أُضحيَّةَ له" (3) .
هذا حديث صحيح مثلُ الأوّل، ولم يُخرجاه.
ایک دوسری سند کے ہمراہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے: جو شخص قربانی کی کھال بیچے اس کی قربانی قبول نہیں۔ ٭٭ یہ حدیث بھی سابقہ حدیث کی مثل صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3510]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3510 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف كسابقه، ونبَّه الذهبي في "التلخيص" هنا إلى ضعف ابن عياش. يحيى بن جعفر بن الزبرقان: هو يحيى بن أبي طالب نفسه الذي في الإسناد السابق. وأخرجه البيهقي 9/ 294 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی سند پچھلی سند کی طرح "ضعیف" ہے (ابن عیاش کے ضعف کی وجہ سے)۔ ذہبی نے "تلخیص" میں تنبیہ کی ہے۔ یحییٰ بن جعفر بن الزبرقان وہی یحییٰ بن ابی طالب ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (9/ 294) نے حاکم کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن علي بن أبي طالب عند أحمد (2/ 593) ومسلم (1317) وغيرهما، قال: أمرني رسول الله ﷺ أن أقوم على بُدْنه وأن أتصدق بلحمها وجلودها وأجلّتها وأن لا أعطيَ الجزار منها، قال: "نحن نعطيه من عندنا".
🧩 متابعات و شواہد: اور اس باب میں علی رضی اللہ عنہ کی حدیث احمد (2/ 593) اور مسلم (1317) میں ہے: "رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے قربانی کے جانوروں پر کھڑا رہوں اور ان کا گوشت، کھالیں اور جھولیں صدقہ کر دوں اور قصائی کو اس میں سے کچھ نہ دوں، فرمایا: ہم اسے اپنے پاس سے دیں گے"۔