المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
205. شأن نزول ( ولا تكرهوا فتياتكم على البغاء ) الآية
آیت ”اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو“ کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 3545
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله الدَّشتَكي، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن عطاء، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قول الله ﷿: ﴿اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ﴾ [النور: 35] يقول: مثلُ نورِ مَن آمَنَ بالله ﴿كَمِشْكَاةٍ﴾ قال: وهي القُتْرة؛ يعني الكَوَّة (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3503 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3503 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ مَثَلُ نُوْرِ من امن باللہ کَمِشْکٰاۃٍ (النور: 35) ” اللہ نور ہے آسمانوں اور زمینوں کا، اس کے نور کی مثال ایسی جیسے ایک طاق “۔ کے متعلق فرماتے ہیں (مشکوٰۃ کا معنی) روشندان ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3545]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3545 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل عمرو بن أبي قيس لولا أنه خولف فيه، فقد رواه سفيان الثوري عند الطبري في "تفسيره" 18/ 136 عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير من قوله، وسفيان ثقة حجّة وقد سمع من عطاء قبل اختلاطه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عمرو بن ابی قیس کی وجہ سے "حسن" ہے، اگر اس میں مخالفت نہ پائی جاتی (یعنی مخالفت کی وجہ سے یہ حسن نہیں رہی)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: تحقیق یہ ہے کہ اس روایت میں سفیان ثوری نے مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے امام طبری کی "تفسیر" (18/ 136) میں عطاء بن السائب سے اور انہوں نے سعید بن جبیر سے ان کے اپنے قول (مقطوع) کے طور پر روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اور سفیان ثوری ثقہ اور حجت ہیں، اور انہوں نے عطاء (بن السائب) سے ان کے اختلاط (ذہنی خلط ملط) سے پہلے حدیث سنی ہے (اس لیے سفیان کی روایت راجح ہے)۔
وأما حديث عمرو بن أبي قيس فقد أخرجه أيضًا ابن أبي حاتم 8/ 2594 عن محمد بن عمار بن الحارث، عن عبد الرحمن الدشتكي، به.
📖 حوالہ / مصدر: جہاں تک عمرو بن ابی قیس کی حدیث کا تعلق ہے تو اسے ابن ابی حاتم (8/ 2594) نے بھی محمد بن عمار بن حارث سے، انہوں نے عبد الرحمن دشتکی سے، اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وقد روي مثله في تأويل (نوره) عن ابن عبَّاس بإسناد آخر رجاله لا بأس بهم عن عطاء بن أبي رباح عنه، أخرجه ابن أبي حاتم 8/ 2594.
🧩 متابعات و شواہد: اسی کی مثل (اللہ تعالیٰ کے فرمان: "نورہ") کی تاویل و تفسیر میں حضرت ابن عباس سے ایک اور سند کے ساتھ مروی ہے جس کے راویوں میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم) ہے۔ یہ روایت عطاء بن ابی رباح نے ابن عباس سے نقل کی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم (8/ 2594) نے تخریج کیا ہے۔