المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
210. شأن نزول آية ( وعد الله الذين آمنوا منكم ) الآية
آیت ”اللہ نے تم میں سے ایمان والوں سے وعدہ فرمایا“ کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 3554
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذان، حدثني أحمد بن سعيد الدارِمي، حدثنا علي بن الحسين بن واقدٍ، حدثني أَبي، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَةِ، عن أُبيِّ بن كعب قال: لما قَدِمَ رسولُ الله ﷺ وأصحابُه المدينةَ وآوَتْهم الأنصارُ، رَمَتْهم العربُ عن قوسٍ واحدة، كانوا لا يَبِيتون إلَّا بالسلاح ولا يُصبِحون إلَّا فيه، فقالوا: تُرَونَ أنّا نعيشُ حتى نبيتَ آمنين مطمئنِّين لا نخافُ إِلَّا الله؟! فنزلت: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا﴾ إلى ﴿وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ﴾ يعني بالنِّعمة ﴿فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ [النور: 55] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3512 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3512 - صحيح
سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب مدینہ المنورہ تشریف لائے اور انصار نے ان کو اپنے ہاں ٹھکانے دیئے تو پورا عرب متفق ہو کر ان کا دشمن ہو گیا اور یہ لوگ صبح و شام اسلحہ سے لیس رہتے تھے، وہ کہا کرتے تھے: تم دیکھو گے کہ ہم ایسی زندگی گزاریں گے اطمینان کے ساتھ زندگی گزاریں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کا ہمیں خوف نہ ہو گا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُم فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِّنْ م بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا ط یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًاط وَ مَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ (النور: 55) ” اللہ نے وعدہ دیا ان کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا جیسی ان سے پہلوں کو دی اور ضرور ان کے لیے جما دے گا ان کا وہ دین جو ان کے لیے پسند فرمایا ہے اور ضرور ان کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے (یعنی نعمت کے بعد تک) تو وہی لوگ بے حکم ہیں “۔ (،)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3554]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3554 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن. أبو العالية: هو رفيع بن مِهران.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو العالیہ سے مراد رفیع بن مہران ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 6، و"الاعتقاد" ص 265 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (3/ 6) اور "الاعتقاد" (ص 265) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الضياء في "المختارة" (3/ 1145) من طريق عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي، عن أحمد بن سعيد الدارمي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ضیاء مقدسی نے "المختارۃ" (3/ 1145) میں عبد اللہ بن محمد بن حسن شرقی کے طریق سے، انہوں نے احمد بن سعید دارمی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الضياء أيضًا (1146) من طريق محمد بن عبدة المروزي، عن علي بن الحسين بن واقد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ضیاء مقدسی نے بھی (1146) میں محمد بن عبدہ مروزی کے طریق سے، انہوں نے علی بن حسین بن واقد سے تخریج کیا ہے۔