🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
231. تفسير سورة السجدة
سورۂ السجدہ کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3589
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام بن بشّار، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، حدثنا يحيى بن العلاء، عن عمِّه شعيب بن خالد، حدثني سِماك بن حَرْب، عن عبد الله بن عَمِيرة عن العبَّاس بن عبد المطلب قال: كنا جلوسًا مع رسول الله ﷺ بالبَطْحاء فمرَّت سحابةٌ فقال رسول الله ﷺ:"أتدرونَ ما هذا؟" فقلنا: اللهُ ورسولُه أعلمُ، فقال:"السَّحَاب" فقلنا: السَّحَابُ، فقال:"والمُزْنُ" فقلنا: والمزنُ، فقال:"والعَنَانُ"، فَسَكَت ثم قال:"أتدرون كم بينَ السماءِ والأرض؟" فقلنا: اللهُ ورسولُه أعلُم، فقال:"بينهما مَسِيرةُ خمسِ مئة سنةٍ، ومن كلِّ سماءٍ إلى السماء التي تليها مَسِيرةُ خمسِ مئة سنة، وكِثَفُ كلِّ سماءٍ خمسُ مئة سنة، وفوقَ السماء السابعة بحرٌ بين أعلاهُ وأسفلِه كما بين السماء والأرض، ثم فوقَ ذلك ثمانيةُ أَوْعالٍ كما بين السماءِ والأرض، واللهُ فوقَ ذلك، وليس يَخفَى عليه من أعمال بني آدمَ شيءٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3547 - أن يحيى بن العلاء واه
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بطحاء (وہ بڑا نالہ جس میں ریت اور کنکریاں ہوں) میں بیٹھے ہوئے تھے تو آسمان سے بادل گزرا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحاب ہے۔ ہم نے کہا: سحاب کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مزن ۔ ہم نے کہا: مزن کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنان پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کس قدر فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ہر آسمان سے اگلے آسمان تک پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ہر آسمان کا اپنا حجم پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ساتویں آسمان سے اوپر ایک سمندر ہے جس کی تہہ اور سطح بالا کے درمیان اتنی مسافت ہے، جتنی زمین اور آسمان کے درمیان اور اللہ تعالیٰ (کی قدرت) اس سے بھی اوپر ہے (یعنی اس کو بھی حاوی ہے) اور اس پر انسان کا کوئی عمل بھی مخفی نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3589]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3589 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا. وهو مكرر (3174).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف جدًا" (سخت ضعیف) ہے، اور یہ (3174) پر مکرر ہے۔