🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

231. تَفْسِيرُ سُورَةِ السَّجْدَةِ
سورۂ السجدہ کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3587
حدثنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخوَّاص، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا أبو النَّضْر هاشم بن القاسم، حدثنا أبو خَيْثمة زهير بن معاوية قال: قلت لأبي الزُّبير: أسمعتَ جابرًا يَذكُر: أنَّ النبي ﷺ كان لا ينامُ حتَّى يقرأَ ﴿الم (1) تَنْزِيلُ﴾ السجدةَ، و ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾؟ فقال أبو الزُّبير: حدَّثَنيهِ صفوانُ، أو أبو صفوانَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، لأنَّ مَدَارَه على حديث ليث بن أبي سُلَيم عن أبي الزُّبير!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3545 - على شرط مسلم
سیدنا ابوخیثمہ زہیر بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ابوالزبیر سے کہا: کیا تم نے سنا ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ یہ بات بتایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے الم تنزیل السجدہ اور تبارک الذی بیدہ الملک پڑھا کرتے تھے؟ تو ابوالزبیر نے کہا: (جی ہاں) مجھے صفوان یا (شاید فرمایا) ابوصفوان نے یہ بات بتائی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ اس حدیث کا مدار لیث بن ابی سلیم کی ابوالزبیر سے روایت کردہ حدیث پر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3587]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3588
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاري، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، حدثنا سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ﴾ [السجدة: 5] ، قال: من الأيام السِّتة التي خَلَقَ اللهُ فيها السماواتِ والأرضَ ثم يَعرُجُ إليه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3546 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآء اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗٓ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (السجدۃ: 5) کام کی تدبیر فرماتا ہے آسمان سے زمین تک پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمہاری گنتی میں ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: ان چھ دنوں میں سے جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3588]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3589
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام بن بشّار، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، حدثنا يحيى بن العلاء، عن عمِّه شعيب بن خالد، حدثني سِماك بن حَرْب، عن عبد الله بن عَمِيرة عن العبَّاس بن عبد المطلب قال: كنا جلوسًا مع رسول الله ﷺ بالبَطْحاء فمرَّت سحابةٌ فقال رسول الله ﷺ:"أتدرونَ ما هذا؟" فقلنا: اللهُ ورسولُه أعلمُ، فقال:"السَّحَاب" فقلنا: السَّحَابُ، فقال:"والمُزْنُ" فقلنا: والمزنُ، فقال:"والعَنَانُ"، فَسَكَت ثم قال:"أتدرون كم بينَ السماءِ والأرض؟" فقلنا: اللهُ ورسولُه أعلُم، فقال:"بينهما مَسِيرةُ خمسِ مئة سنةٍ، ومن كلِّ سماءٍ إلى السماء التي تليها مَسِيرةُ خمسِ مئة سنة، وكِثَفُ كلِّ سماءٍ خمسُ مئة سنة، وفوقَ السماء السابعة بحرٌ بين أعلاهُ وأسفلِه كما بين السماء والأرض، ثم فوقَ ذلك ثمانيةُ أَوْعالٍ كما بين السماءِ والأرض، واللهُ فوقَ ذلك، وليس يَخفَى عليه من أعمال بني آدمَ شيءٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3547 - أن يحيى بن العلاء واه
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بطحاء (وہ بڑا نالہ جس میں ریت اور کنکریاں ہوں) میں بیٹھے ہوئے تھے تو آسمان سے بادل گزرا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحاب ہے۔ ہم نے کہا: سحاب کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مزن ۔ ہم نے کہا: مزن کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنان پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کس قدر فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ہر آسمان سے اگلے آسمان تک پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ہر آسمان کا اپنا حجم پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ساتویں آسمان سے اوپر ایک سمندر ہے جس کی تہہ اور سطح بالا کے درمیان اتنی مسافت ہے، جتنی زمین اور آسمان کے درمیان اور اللہ تعالیٰ (کی قدرت) اس سے بھی اوپر ہے (یعنی اس کو بھی حاوی ہے) اور اس پر انسان کا کوئی عمل بھی مخفی نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3589]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں