المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
234. ما رزق عبد خيرا له ولا أوسع من الصبر
کسی بندے کو صبر سے بہتر اور زیادہ وسیع کوئی نعمت نہیں دی گئی
حدیث نمبر: 3594
حدثنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجلَّاب بهَمَذان، حدثنا إسحاق بن أحمد بن مِهْران الخرَّاز، حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي (2) قال: سمعتُ مالكَ بن أنس، وتلا قولَ الله ﷿: ﴿وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا﴾ [السجدة: 24] ، فقال: حدثني الزُّهْري، أنَّ عطاء بن يزيد حدَّثه عن أبي هريرة، أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول:"ما رُزِقَ عبدٌ خيرًا له ولا أوسَعَ من الصَّبر" (3) . قد اتَّفق الشيخان على إخراج هذه اللفظة لمالك في آخر حديثه بهذا الإسناد: أنَّ ناسًا من الأنصار سأَلوا رسولَ الله ﷺ، الحديثَ بطوله. وفي آخره هذه اللفظة، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة التي عند إسحاق بن سليمان.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3552 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3552 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: وَجَعَلْنَا مِنْھُمْ اَئِمَّۃً یَّھْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا (السجدۃ: 24) ” اور ہم نے ان میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جبکہ انہوں نے صبر کیا “۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنایا: انسان کو صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ وسیع کوئی چیز نہیں دی گئی۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسی سند کے ہمراہ اپنی حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ذکر کیے ہیں۔” کچھ انصاری لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ اس کے بعد مفصل حدیث بیان کی اور اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا جس سند کے ساتھ اسحاق بن سلیمان نے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3594]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3594 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وقع في (ز): أبو إسحاق سليمان الرازي، وهو خطأ.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں "ابو اسحاق سلیمان رازی" لکھا ہے، جو کہ غلط ہے۔
(3) إسناده صحيح لكن من حديث عطاء بن يزيد الليثي عن أبي سعيد الخدري، وهمَ إسحاق بن أحمد بن مهران فجعله من حديث أبي هريرة، وقد خالفه الإمام أحمد فرواه في "مسنده" (18/ 11891) عن إسحاق بن سليمان الرازي فجعله من حديث عطاء بن يزيد الليثي عن أبي سعيد على الجادّة، وظاهر كلام الحاكم بإثر الحديث يُفهَم منه أنَّ الحديث عنده عن أبي سعيد وليس عن أبي هريرة، فإن كان كذلك في أصل كتابه فما وقع في نسخنا خطأٌ من بعض النسَّاخ ثم تناقلوه، والله تعالى أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے، لیکن یہ عطاء بن یزید لیثی کی ابو سعید خدری سے حدیث ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن احمد بن مہران کو وہم ہوا ہے اور انہوں نے اسے ابو ہریرہ کی حدیث بنا دیا۔ حالانکہ امام احمد نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے "مسند" (18/ 11891) میں اسحاق بن سلیمان رازی سے روایت کیا اور اسے عطاء بن یزید لیثی عن ابو سعید بنا کر معروف طریقے (الجادّہ) پر رکھا۔ حدیث کے بعد حاکم کا کلام بظاہر یہ سمجھاتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی یہ حدیث ابو سعید سے ہے نہ کہ ابو ہریرہ سے۔ اگر ایسا ہی ان کی اصل کتاب میں تھا تو ہمارے نسخوں میں جو واقع ہوا ہے وہ کسی ناسخ کی غلطی ہے جسے دوسروں نے نقل کر لیا۔ واللہ اعلم۔
وأخرجه دون ذكر تلاوة مالك للآية: البخاري (1469)، ومسلم (1053)، وأبو داود (1644)، والترمذي (2024)، والنسائي (2380) و (11819) و (11820)، وابن حبان (3400) من طرق عن مالك، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن أبي سعيد الخدري: أنَّ ناسًا من الأنصار سألوا رسول الله ﷺ فأعطاهم … إلخ.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے امام مالک کی آیت کی تلاوت کے ذکر کے بغیر بخاری (1469)، مسلم (1053)، ابو داود (1644)، ترمذی (2024)، نسائی (2380، 11819، 11820)، اور ابن حبان (3400) نے امام مالک کے واسطے سے کئی طرق سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے، انہوں نے ابو سعید خدری سے تخریج کیا ہے کہ: انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے انہیں دیا... الخ۔
وأخرجه كذلك أحمد (18/ 1890) من طريق معمر، والبخاري (6470) من طريق شعيب بن أبي حمزة، كلاهما عن الزهري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے احمد (18/ 1890) نے معمر کے طریق سے، اور بخاری (6470) نے شعیب بن ابی حمزہ کے طریق سے، دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد (17/ 11091) و (18/ 11435) من طريق عطاء بن يسار، وابن حبان (3399) من طريق سعيد المقبري، كلاهما عن أبي سعيد الخدري.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح احمد (17/ 11091 و 18/ 11435) نے عطاء بن یسار کے طریق سے، اور ابن حبان (3399) نے سعید مقبری کے طریق سے، دونوں نے ابو سعید خدری سے تخریج کیا ہے۔