المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
247. حكاية وفاة سليمان عليه السلام .
حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کا واقعہ
حدیث نمبر: 3626
حدثني أبو عمرو إسماعيل بن نُجَيد السُّلَمي، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا أبو غسّان محمد بن عَمْرو الطَّيَالِسي، حدثنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: مات سليمانُ بن داود ﵇ وهو قائمٌ يصلِّي ولم تَعلَم الشياطينُ بذلك حتى أكَلَت الأَرَضةُ عصاه فخَرَّ، وكان إذا نَبَتَت شجرةٌ سألها: لأيِّ داءٍ أنتِ؟ قال: فتُخبره، كما أخبر الله ﷿: ﴿وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ﴾ الآياتِ كلِّها [سبأ: 12] ، فلما نَبَتَت الخُرنُوبُ سألها لأيِّ شيء نَبَتَت، فقالت: لخرابِ هذا المسجد، فقال: إنَّ خرابَ هذا المسجد لا يكون إلَّا عند موتي، فقام يُصلِّي (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3584 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3584 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا سلیمان بن داؤد علیہما السلام کھڑے کھڑے نماز پڑھتے ہوئے فوت ہوئے اور شیاطین کو آپ کی وفات کا پتہ نہ چلا۔ یہاں تک کہ مٹی نے ان کے عصا کو کھا لیا تو آپ گر پڑے (اصل بات یہ تھی) جب بھی کوئی پودا اُگتا تو آپ اس سے پوچھتے: تو کس مرض کی دوا ہے؟ تو وہ پودا آپ کو اپنے تمام فوائد اور نقصانات بتاتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّھَا شَھْرٌ وَّ رَوَاحُھَا شَھْرٌ وَ اَسَلْنَا لَہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ (سبا: 12) ” اور سلیمان کے بس میں ہوا کر دی اس کی صبح کی منزل ایک مہینہ کی راہ اور شام کی منزل ایک مہینے کی راہ اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا “۔ اس کے بعد کی تمام آیات۔ جب خرنوب اُگا، تو آپ نے اس سے پوچھا: تو کس لئے اُگا ہے؟ اس نے کہا: اس مسجد کو برباد کرنے کے لیے۔ آپ نے فرمایا: اس مسجد کی بربادی میری موت کے وقت ہو گی (تو یقیناً اب میری موت کا وقت قریب ہے) تب وہ کھڑے ہو کر نماز میں مصروف ہو گئے۔ (خرنوب: سیاہ رنگ کا ایک درخت ہوتا ہے جو کہ ملک شام کے پہاڑی علاقوں میں اُگتا ہے، عراقی بچے اس کو شامی کھیرا کہتے ہیں۔ شفیق) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3626]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3626 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، جرير - وهو ابن عبد الحميد - روى عن عطاء بن السائب بعد اختلاطه، لكن تابعه من روى عنه قبل الاختلاط، وهو سفيان بن عيينة عند البزار في "مسنده" (5061) والمروزي في "تعظيم قدر الصلاة" (207)، فصحَّ الإسناد إن شاء الله.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اگرچہ جریر (ابن عبد الحمید) نے عطاء بن السائب سے ان کے اختلاط کے بعد روایت کیا ہے، لیکن ان کی متابعت "سفیان بن عیینہ" نے کی ہے جنہوں نے اختلاط سے پہلے روایت کیا ہے (بزار 5061، مروزی 207)، لہٰذا ان شاء اللہ سند صحیح ہو گئی۔
وتابع عطاءً عليه سلمةُ بنُ كهيل عن سعيد بن جبير فيما سيأتي عند المصنف برقم (7617).
🧩 متابعات و شواہد: اور عطاء کی متابعت "سلمہ بن کہیل" نے سعید بن جبیر سے کی ہے جو مصنف کے ہاں آگے (7617) پر آئے گی۔
وخالف إبراهيم بن طهمان عن عطاء بن السائب فيما سيأتي برقم (7616) و (8426) فرفعه إلى النبي ﷺ، وهذا وهمٌ من ابن طهمان، والصحيح أنه موقوف على ابن عبَّاس. وانظر تمام تخريجه عند (7616).
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابراہیم بن طہمان نے عطاء بن السائب سے روایت میں مخالفت کرتے ہوئے اسے نبی ﷺ تک "مرفوع" کر دیا ہے (جو آگے 7616، 8426 پر آئے گا)۔ یہ ابن طہمان کا "وہم" ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ ابن عباس پر "موقوف" ہے۔