🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
258. قصة ذبح إسماعيل عليه السلام
حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3654
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا الحسن بن المثنَّى العَنبَري، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا شِبْل بن عبَّاد، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ﴾ [الصافات: 83] ، قال: مِن شِيعَة نوحٍ إبراهيمُ على مِنهاجه وسُنَّته، ﴿بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ﴾ [الصافات: 102] : شَبَّ حتى بلغ سَعيُه سعيَ إبراهيمَ في العمل، ﴿فَلَمَّا أَسْلَمَا﴾: ما أُمِرا به، ﴿وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ﴾ [الصافات: 103] : وَضَعَ وجهَه إلى الأرض، فقال: لا تَذبَحْني وأنت تَنظُر، عسى أن تَرحمَني فلا تُجهِزَ عليَّ، اربِطْ يديَّ إلى رقبتي، ثم ضَعْ وجهي على الأرض، فلما أَدخل يدَه ليذبحَه، فلم تَحُكَّ المُدْيةُ حتَّى نُوديَ: ﴿أَنْ يَاإِبْرَاهِيمُ (104) قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا﴾ فأمسَكَ يدَه ورَفَعَ، ﴿وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ﴾ [الصافات: 107] : بكَبشٍ عظيمٍ مُتقبَّل. وزَعَمَ ابنُ عبَّاس أَنَّ الذَّبيحَ إسماعيلُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3612 - على البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِہٖ لَاِبْرَاھِیْمَ (الصافات: 83) اور بیشک اسی کے گروہ سے سیدنا ابراہیم ہیں۔ کے متعلق فرماتے ہیں۔ سیدنا نوح علیہ السلام کے طریقہ کار پر ابراہیم علیہ السلام کاربند تھے۔ وہ (اسماعیل علیہ السلام) کام کاج میں ان (ابراہیم علیہ السلام) کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ جب عمل میں وہ ان کے معاون ہو گئے۔ فَلَمَّآ اَسْلَمَا (الصافات: 103) تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی۔ یعنی جس چیز کا انہیں حکم دیا گیا تھا۔ وَ تَلَّہٗ لِلْجَبِیْنِ (الصافات: 103) اور ان کے چہرے کے بل زمین پر لٹایا۔ تو (سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے) کہا: آپ اپنی نظروں کے سامنے مجھے ذبح نہ کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو مجھ پر ترس آ جائے اور آپ مجھے ذبح کرنے سے رک جائیں۔ اس لئے آپ میرے ہاتھ میری گردن پر باندھ دیں پھر میرا چہرہ زمین پر رکھ دیں، جب آپ نے ان کو ذبح کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو ابھی چھری نہیں چلائی تھی کہ ان کو آواز آئی اے ابراہیم علیہ السلام آپ نے خواب سچ کر دکھایا۔ اب اپنا ہاتھ روک لیں اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ ان کے فدیہ میں دے کر ان کو بچا لیا وہ ایک عظیم خوبصورت مینڈھا تھا اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا موقف یہ ہے کہ یہ ذبیح سیدنا اسماعیل علیہ السلام تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3654]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3654 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل أبي حذيفة: وهو موسى بن مسعود النَّهدي.
⚖️ درجۂ حدیث: "ابو حذیفہ" (موسیٰ بن مسعود نہدی) کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرج نحوه مقطَّعًا آدم بن أبي إياس في "تفسيره" 2/ 542 - 545 عن ورقاء اليشكري، عن عبد الله بن أبي نجيح، عن مجاهد من قوله لم يذكر فيه ابن عبَّاس. وكذلك هو عند الطبري في "تفسيره".
📖 حوالہ / مصدر: اسے آدم بن ابی ایاس نے "تفسیر" (2/ 542-545) میں ورقاء یشکری سے، انہوں نے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے ان کا "قول" بنا کر (مقطوعاً) تخریج کیا ہے، اس میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا۔ اور طبری کے ہاں بھی ایسے ہی ہے۔
وآخره سيأتي برقم (4078) من طريق الشعبي عن ابن عبَّاس.
📝 نوٹ / توضیح: اس کا آخری حصہ آگے نمبر (4078) پر شعبی عن ابن عباس کے طریق سے آئے گا۔