🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
264. كان داود عليه السلام أعبد البشر
حضرت داؤد علیہ السلام تمام انسانوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3663
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا محمد بن سَعْدٍ (2) الأنصاري، عن عبد الله بن يزيد الدِّمشقي، حدثنا عائذُ الله أبو إدريس الخَوْلاني، عن أبي الدَّرداء، عن النبي ﷺ قال:"قال داود ﵇: وأسألُكَ حبَّك وحبَّ من يُحبُّك، والعملَ الذي يُبلِّغُني حبَّك، ربِّ اجعلْ حبَّك أحبَّ إليَّ من نَفْسي وأهلي ومِن الماءِ البارد". وكان النبي ﷺ إذا ذَكَرَ داودَ وحدَّث عنه قال:"كان أعبدَ البَشرِ" (3) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3621 - بل عبد الله بن يزيد الدمشقي هذا قال أحمد أحاديثه موضوعة
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا داؤد علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے رب! میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبین کی محبت اور ایسے عمل کی توفیق کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔ یا اللہ! اپنی محبت کو مجھے، میری جان اور میرے اہل اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب کر دے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی سیدنا داؤد علیہ السلام کا تذکرہ کرتے یا ان کے بارے میں کوئی واقعہ سناتے تو فرماتے: داؤد علیہ السلام سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3663]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3663 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ز) و (ص) و (ع): سعيد، والمثبت من (ب)، وهو الصواب الموافق لما في مصادر ترجمته.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز، ص، ع) میں "سعید" ہے، نسخہ (ب) سے جو ثابت ہے وہی "درست" (صواب) ہے جو مصادر کے موافق ہے۔
(3) إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن يزيد الدمشقي: وهو عبد الله بن يزيد بن ربيعة، هكذا جاء منسوبًا عند البخاري في "تاريخه الكبير" 5/ 229، ويقال: عبد الله بن ربيعة بن يزيد، وقد وهمَ الذهبي في "تلخيصه" فظنَّه عبد الله بن يزيد بن آدم الدمشقي فنقل فيه قول أحمد: أحاديثه موضوعة.
⚖️ درجۂ حدیث: "عبد اللہ بن یزید دمشقی" (ابن یزید بن ربیعہ) کی "جہالت" کی وجہ سے یہ سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ذہبی کو "التلخیص" میں وہم ہوا اور انہوں نے اسے "عبد اللہ بن یزید بن آدم" سمجھ لیا اور امام احمد کا قول (کہ ان کی احادیث موضوع ہیں) نقل کر دیا۔
وأخرجه الترمذي (3490) عن أبي كريب محمد بن العلاء، عن محمد بن فضيل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3490) نے ابو کریب سے، انہوں نے محمد بن فضیل سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وقال: هذا حديث حسن غريب.
⚖️ درجۂ حدیث: انہوں نے کہا: یہ حدیث "حسن غریب" ہے۔
وقوله في آخره في داود: "كان أعبد البشر" صحيح لغيره، يشهد له حديث عبد الله بن عمرو بن العاص عند مسلم (1159) (182)، ففيه مرفوعًا: "صم صوم داود نبي الله، فإنه كان أعبد الناس".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے آخر میں داؤد علیہ السلام کے بارے میں قول: "وہ انسانوں میں سب سے بڑے عابد تھے" یہ "صحیح لغیرہ" ہے۔ اس کا شاہد عبد اللہ بن عمرو کی حدیث (مسلم 1159) ہے، جس میں ہے: "داؤد کا روزہ رکھو، کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے بڑے عابد تھے"۔