🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
267. بيان شكر أهل الجنة وحسرة أهل النار
اہلِ جنت کے شکر اور اہلِ جہنم کی حسرت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3671
حدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا أحمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"كلُّ أهل النار يَرى مَقعدَه من الجنة فيقول: لو أنَّ الله هَدَاني، فيكونُ عليه حَسْرةً، وكلُّ أهلِ الجنة يَرى مَقعدَه من النار فيقول: لولا أنَّ الله هَدَاني، فيكونُ له شُكرًا"، ثم تَلَا رسولُ الله ﷺ: ﴿أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يَاحَسْرَتَا عَلَى مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ﴾ [الزمر: 56] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3629 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر جہنمی کو اس کا جنت کا مقام دکھایا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا: کاش کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت دے دیتا۔ تو اس کو بہت حسرت ہو گی اور ہر جنتی کو اس کا دوزخ کا مقام دکھایا جائے گا، وہ کہے گا: اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی (تو میرا کیا بنتا) تب وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے گا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْبِ اللّٰہِ (الزمر: 56) کہ کہیں کوئی جان یہ نہ کہے کہ ہائے افسوس! ان تقصیروں پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3671]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3671 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو الحرشي وأبي بكر بن عياش.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور یہ سند "محمد بن عمرو حرشی" اور "ابو بکر بن عیاش" کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد (16/ 10652) عن أسود بن عامر، والنسائي (11390) من طريق عبد الحميد بن صالح، كلاهما عن أبي بكر بن عياش، بهذا الإسناد - ولم يذكرا فيه التلاوة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (16/ 10652) نے اسود بن عامر سے، اور نسائی (11390) نے عبد الحمید بن صالح کے طریق سے، دونوں نے ابوبکر بن عیاش سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے (تلاوت کے ذکر کے بغیر)۔
وأخرجه بنحوه أحمد (10980)، والبخاري (6569)، وابن حبان (7451) من طريق أبي الزناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة. ولم يذكر فيه التلاوة أيضًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (10980)، بخاری (6569) اور ابن حبان (7451) نے ابوالزناد عن الاعرج عن ابی ہریرہ کے طریق سے تخریج کیا ہے (تلاوت کے بغیر)۔