المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
266. تفسير سورة الزمر
سورۂ الزمر کی تفسیر
حدیث نمبر: 3670
حدثني أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدثنا الحسن بن الرَّبيع، حدثنا عبد الله بن إدريس، حدثني محمد بن إسحاق قال: وأخبرني نافع، عن عبد الله بن عمر، قال: كنا نقول ما لمُفتَتِنٍ توبةٌ، وما اللهُ بقابلٍ منه شيئًا، فلمّا قَدِمَ رسولُ الله ﷺ المدينةَ أُنزِلَ فيهم: ﴿يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ [الزمر: 53] ، والآياتُ التي بعدها. قال عمر: فكتبتُها، فجلستُ على بعيري ثم طُفْتُ المدينةَ (1) ، ثم أقامَ رسولُ الله ﷺ بمكة ينتظرُ أن يَأْذَنَ اللهُ له في الهجرة وأصحابِه من المهاجرين، وقد أقام أبو بكر ينتظرُ أن يُؤذَنَ لرسول الله ﷺ فيخرجَ معه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم یہ سمجھتے تھے کہ دین سے پھرنے والے کی نہ ہی توبہ قبول ہے اور نہ اللہ تعالیٰ اس کا کوئی عمل قبول فرمائے گا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینۃ المنورہ تشریف لائے تو ان کے متعلق یہ آیات: یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّہٗ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (الزمر: 53) ” اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔“ یہ آیت اور اس کے بعد کی آیات نازل ہوئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے ان آیات کو لکھا اور پھر مدینہ میں گھوما۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کی اجازت کے انتظار میں مکہ میں ٹھہرے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی اسی انتظار میں وہاں ٹھہرے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کی اجازت ملے تو وہ آپ کی معیت میں نکلیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3670]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3670 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا وقع عند المصنف، وهو خطأ والصواب كما في سائر الروايات عن ابن إسحاق: أنَّ عمر كتبها وبعث بها إلى هشام بن العاص وهو في مكة، وكان ممَّن تخلَّف عن الهجرة إلى المدينة، قال هشام: فلما قَدِمَت عليَّ خرجتُ بها إلى ذي طُوى فجعلتُ أصعِّد بها وأصوِّب لأفهمها، فقلت: اللهم فهِّمنيها، فعرفتُ إنما نزلت فينا كما كنَّا نقول في أنفسنا ويقال فينا، فرجعت فجلست على بعيري، فلحقت برسول الله ﷺ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف کے ہاں ایسا ہی واقع ہوا ہے، جو "غلطی" ہے۔ درست (صواب) وہ ہے جو ابن اسحاق سے باقی تمام روایات میں ہے: کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے لکھا اور ہشام بن العاص کو بھیجا جو مکہ میں تھے اور ہجرت سے پیچھے رہ گئے تھے۔ ہشام کہتے ہیں: جب وہ مجھے ملی تو میں ذی طویٰ کی طرف نکلا اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا (غور کرنے لگا) تاکہ سمجھ سکوں، میں نے کہا: اے اللہ! مجھے یہ سمجھا دے۔ تو میں پہچان گیا کہ یہ ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے... (پھر میں ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ سے جا ملا)۔
(2) إسناده حسن من أجل ابن إسحاق.
⚖️ درجۂ حدیث: "ابن اسحاق" کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (6736) عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد - مختصرًا دون قول عمر: فكتبتها، وما بعده.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (6736) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ مختصراً تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الضياء في "المختارة" (1/ 213) من طريق إسحاق بن إبراهيم بن جبلة، عن الحسن بن الربيع، به. ولم يسق لفظه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ضیاء نے "المختارۃ" (1/ 213) میں اسحاق بن ابراہیم بن جبلہ کے طریق سے حسن بن ربیع سے تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه البزار (155)، والطبري في "تفسيره" 24/ 15، وابن المنذر في "الأوسط" (9670)، والطبراني في "الكبير" (22/ 462)، والبيهقي في "السنن" 9/ 13، وفي "الدلائل" 2/ 461 - 462، والضياء (212) من طرق عن ابن إسحاق، به - وبعضهم يزيد فيه على بعض.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار (155)، طبری (24/ 15)، ابن المنذر (9670)، طبرانی (22/ 462)، بیہقی (السنن 9/ 13، الدلائل 2/ 461-462) اور ضیاء (212) نے ابن اسحاق کے واسطے سے کئی طرق سے تخریج کیا ہے۔