🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
269. الصور قرن ينفخ فيه
صور ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3673
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أَبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن سليمان التَّيْمي، عن بِشْر بن الشَّغَاف التَّميمي، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، عن النبي ﷺ في قوله ﷿: ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ﴾ [الزمر: 68] ، قال النبي ﷺ:"هو قَرْنٌ يُنفَخُ فيه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3631 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ (الزمر: 68) اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہو جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں۔ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3673]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3673 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنه منقطع، سليمان التيمي لم يسمع بشرًا، بينهما فيه أسلم العِجْلي، وهو ثقة. ونسبة بشر بن شغاف هنا إلى تميم فيها وقفة، فلم تقع هذه النسبة في شيء من مصادر ترجمته، وإنما هو ضَبِّي. وهو في "تفسير عبد الرزاق" 2/ 175 كما وقع عند المصنف هنا، ولم نقف عليه في "مسند أحمد" من روايته عن عبد الرزاق.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن یہ "منقطع" ہے، سلیمان تیمی نے بشر سے نہیں سنا، ان دونوں کے درمیان "اسلم عجلی" ہیں جو ثقہ ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں بشر بن شغاف کی "تمیم" کی طرف نسبت محل نظر ہے، مصادر میں یہ نسبت نہیں ملی، وہ "ضبی" ہیں۔ عبد الرزاق کی تفسیر (2/ 175) میں یہ ویسے ہی ہے جیسے مصنف کے ہاں ہے۔
وأخرجه أحمد (11/ 6507) و (6805)، وأبو داود (4742)، والترمذي (2430) و (3244)، والنسائي (11250) و (11317) و (11392)، والمصنف فيما سيأتي برقم (3912) و (8894) من طرق عن سليمان التيمي، عن أسلم العجلي، عن بشر بن شغاف به - ولم يذكروا فيه الآية. وقال الترمذي: حديث حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی اور مصنف (آگے 3912، 8894) نے سلیمان تیمی سے، انہوں نے اسلم عجلی سے، انہوں نے بشر بن شغاف سے تخریج کیا ہے (آیت کے ذکر کے بغیر)۔ ترمذی نے اسے "حسن" کہا ہے۔