المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
269. الصور قرن ينفخ فيه
صور ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا
حدیث نمبر: 3674
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ إملاءً، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا مُحاضِر بن المورِّع، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنها كانت تقول لنساءِ النبيِّ ﷺ: ما تَستحْيي المرأةُ أن تَهَبَ نفسَها! فأنزل اللهُ هذه الآية في نساءِ النبي ﷺ: ﴿تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ﴾ [الأحزاب: 51] ، فقالت عائشةُ للنبي ﷺ: أَرى ربَّكَ يُسارِعُ لك في هَوَاك (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3632 - على شرط البخاري ومسلم ولم يخرجاه بهذه السياقة
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3632 - على شرط البخاري ومسلم ولم يخرجاه بهذه السياقة
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (دیگر) ازواج سے کہا کرتی تھیں: عورت اپنے آپ کو ہبہ کرنے سے حیاء نہیں کرتی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْھُنَّ وَ تُؤِوِیْٓ اِلَیْکَ مَنْ تَشَآءُ (الاحزاب: 51) ” پیچھے ہٹاؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو۔“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ کے رب نے آپ کی خواہش پوری کرنے میں آپ کے ساتھ خوب تعاون فرمایا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3674]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3674 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محاضر بن المورِّع، وقد توبع. محمد بن عبد الوهاب: هو الفرّاء النيسابوري.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور یہ سند "محاضر بن مورع" کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ محمد بن عبد الوہاب سے مراد فراء نیشاپوری ہیں۔
وأخرجه ابن المنذر في "الأوسط" (7276) عن محمد بن عبد الوهاب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن المنذر نے "الاوسط" (7276) میں محمد بن عبد الوہاب سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (41/ 25026) و (42/ 25251) و (43/ 26251)، والبخاري (4788) و (5113)، ومسلم (1464)، وابن ماجه (2000)، والنسائي (5287) و (8878) و (11350)، وابن حبان (6367) من طرق عن هشام بن عروة، به. فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، بخاری، مسلم، ابن ماجہ، نسائی اور ابن حبان نے ہشام بن عروہ کے واسطے سے کئی طرق سے تخریج کیا ہے۔ لہٰذا حاکم کا استدراک ان کا "ذہول" ہے۔
تنبيه: حق هذا الحديث والذي بعده أن يكونا في تفسير سورة الأحزاب.
📝 نوٹ / توضیح: تنبیہ: اس حدیث اور اس کے بعد والی کا حق یہ تھا کہ یہ سورہ احزاب کی تفسیر میں ہوتیں۔