🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. قيدوا العلم بالكتاب
علم کو لکھ کر محفوظ کرو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 368
حدثني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن محمد، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا جرير بن حازم، عن يعلى بن حَكِيم، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: لما قُبِضَ رسولُ الله ﷺ قلتُ لرجل من الأنصار: هَلُمَّ فلنسأَلْ أصحابَ رسول الله ﷺ، فإنهم اليومَ كثير، فقال: واعجبًا لك يا ابنَ عباس، أترى الناسَ يَفتقِرون إليك وفي الناس من أصحاب رسول الله ﷺ مَن فيهم؟! قال: فتركتُ ذاك، وأقبلتُ أسألُ أصحابَ رسول الله ﷺ، وإن كان يَبلُغُني الحديثُ عن الرجل فآتي بابَه وهو قائلٌ، فأتوسَّدُ ردائي على بابه تَسْفي الريحُ عليَّ من التراب، فيخرج فيراني فيقول: يا ابنَ عمّ رسول الله، ما جاءَ بك، هلَّا أرسلت إليَّ فآتيَك؟ فأقول: لا، أنا أحقُّ أن آتيَك، قال: فأسأله عن الحديث. فعاش هذا الرجلُ الأنصاريُّ حتى رآني وقد اجتمع الناسُ حولي يسألونني، فيقول: هذا الفتى كان أعقلَ منِّي (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، وهو أصلٌ في طلب الحديث وتوقير المحدِّث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 363 - على شرط البخاري
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں نے انصار کے ایک صاحب سے کہا: آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے (علم) دریافت کریں کیونکہ وہ آج کثیر تعداد میں موجود ہیں، اس نے کہا: اے ابن عباس! آپ پر تعجب ہے، کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ لوگ (علم کے لیے) آپ کے محتاج ہوں گے جبکہ لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ موجود ہیں؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات چھوڑ دی اور خود صحابہ سے سوال کرنے میں جت گیا، اگر مجھے کسی شخص کے بارے میں یہ پتہ چلتا کہ اس کے پاس کوئی حدیث ہے تو میں دوپہر کے وقت اس کے دروازے پر پہنچ جاتا، میں اپنی چادر کو تکیہ بنا کر اس کے دروازے پر لیٹ جاتا اور ہوا مجھ پر مٹی اڑاتی رہتی، پھر جب وہ صاحب باہر نکلتے اور مجھے دیکھتے تو کہتے: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد! آپ یہاں کیسے آئے؟ آپ نے مجھے پیغام کیوں نہ بھیج دیا، میں خود آپ کے پاس حاضر ہو جاتا؟ میں کہتا: نہیں، میرا حق زیادہ ہے کہ میں آپ کے پاس آؤں، پھر میں ان سے حدیث کے بارے میں سوال کرتا۔ (ابن عباس فرماتے ہیں کہ) وہ انصاری شخص اتنا عرصہ زندہ رہا کہ اس نے مجھے اس حال میں دیکھ لیا کہ لوگ میرے گرد (علم کے لیے) جمع تھے، تو وہ کہنے لگا: یہ نوجوان مجھ سے زیادہ عقل مند تھا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ طلبِ حدیث اور محدث کی توقیر کے معاملے میں ایک بنیادی دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 368]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 368 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. صحيح الحارث بن محمد: هو ابن أبي أسامة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حارث بن محمد سے مراد مشہور صاحبِ مسند حارث بن ابی اسامہ ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "المدخل إلى السنن الكبرى" (673) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "المدخل" (673) میں امام ابو عبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 2/ 317، والدارمي (590)، ويعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 1/ 542، والخطيب البغدادي في "الجامع لأخلاق الراوي والسامع" (215) من طرق عن يزيد بن هارون، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (2/ 317)، دارمی (590)، یعقوب بن سفیان (1/ 542) اور خطیب بغدادی (215) نے یزید بن ہارون کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في "فضائل الصحابة" (1925)، والطبراني (10592) من طريق وهب بن جرير بن حازم، عن أبيه جرير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد اللہ بن احمد نے "فضائل الصحابہ" (1925) میں اور طبرانی نے (10592) میں وہب بن جریر بن حازم عن ابیہ جریر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (6427) من طريق سعيد بن مسعود المروزي عن يزيد بن هارون، لكن ذكر فيه سعيد بن جبير مكان عكرمة، وهي رواية شاذة، فكل من رواه عن يزيد ذكر فيه عكرمة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ روایت آگے رقم (6427) پر دوبارہ آئے گی، لیکن وہاں عکرمہ کے بجائے سعید بن جبیر کا نام مذکور ہے، جو کہ ایک "شاذ" (غیر معروف/غلط) روایت ہے کیونکہ یزید بن ہارون سے روایت کرنے والے تمام ثقہ راویوں نے عکرمہ کا ہی ذکر کیا ہے۔