🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
292. تفسير سورة حم الجاثية وعند أهل الحرمين حم الشريعة
سورۃ حم جاثیہ کی تفسیر_x000D_ اہل حرمین اسے حم الشریعہ کہتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3728
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، عن عمر بن حَبيب المكِّي، عن حُميد بن قيس الأعرج، عن طاووس، قال: جاء رجلٌ إلى عبد الله بن عمرو بن العاص يسألُه: ممَّ خُلِقَ الخلقُ؟ قال: من الماء والنُّور والظُّلمة والرِّيح والتُّراب، قال الرجل: فمِمَّ خُلِقَ هؤلاء؟ قال: لا أدري. قال: ثم أَتى الرجلُ عبدَ الله بنَ الزُّبير فسأله، فقال مثلَ قول عبد الله بن عمرو، قال: فأتى الرجلُ عبدَ الله بن عبّاس فسأله فقال: ممَّ خُلِقَ الخلق؟ قال: من الماء والنُّور والظُّلمة والرِّيح والتُّراب، قال الرجل: فمِمَّ خُلِقَ هؤلاء؟ فتلا عبدُ الله ابن عبَّاس: ﴿وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ﴾ [الجاثية: 13] ، فقال الرجل: ما كان لنا بهذا إلَّا رجلٌ من أهل بيت النَّبِيّ ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3687 - الخبر منكر
سیدنا طاؤس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے آیا کہ مخلوق کی تخلیق کس چیز سے ہوئی؟ آپ نے فرمایا: پانی، روشنی، اندھیرے، ہوا اور مٹی سے۔ اس شخص نے سوال کیا: یہ چیزیں کس سے بنائی گئی ہیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں۔ پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے یہ سوال کیا۔ انہوں نے بھی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جیسا جواب دیا۔ پھر وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے پوچھا: مخلوق کس چیز سے بنائی گئی؟ انہوں نے فرمایا: پانی، روشنی، اندھیرے اور ہوا اور مٹی سے۔ اس نے کہا: یہ چیزیں کس سے پیدا کی گئی ہیں؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تلاوت کی: وَ سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ (الجاثیۃ: 13) اور تمہارے لیے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اپنے حکم سے۔ اس شخص نے کہا: مجھے یہ بات صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ایک شخص (یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے بتائی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3728]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3728 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. إسحاق: هو ابن راهويه. وأما قول الذهبي في "تلخيصه": عمر هذا (يعني ابن حبيب) فتَّشت عنه فلم أعرفه، والخبر منكر! كذا قال ﵀، وعمر هذا معروف من الثقات الحفَّاظ، انظر ترجمته في "تهذيب الكمال" 21/ 288 - 289.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اسحاق سے مراد ابن راہویہ ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: رہا ذہبی کا "تلخیص" میں یہ کہنا کہ: "میں نے اس عمر (ابن حبیب) کو تلاش کیا تو میں اسے نہ پہچان سکا اور یہ خبر منکر ہے!" تو یہ ان کا قول ہے، حالانکہ یہ عمر ثقہ حفاظ میں معروف ہے۔ دیکھیے "تہذیب الکمال" (21/ 288-289)۔
وأخرجه البيهقي في "الأسماء والصفات" (829)، و "الاعتقاد" ص 92 - 93 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "الاسماء والصفات" (829) اور "الاعتقاد" (ص 92-93) میں ابو عبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وهو في "تفسير عبد الرزاق" 2/ 213، لكن سقط طاووس من المطبوع فصار من حكاية حميد الأعرج!
📝 نوٹ / توضیح: یہ "تفسیر عبد الرزاق" (2/ 213) میں بھی ہے، لیکن مطبوعہ نسخے سے "طاؤس" کا نام گر گیا جس سے یہ حمید الاعرج کی حکایت بن گئی۔
وأخرج نحوه الدولابي في "الكنى والأسماء" بإثر (633) عن أبي نصر محمد بن خلف، عن محمد بن يوسف الفريابي، عن سفيان الثوري، عن الأعمش، عن المنهال بن عمرو، عن أبي أراك قال: سأل رجلٌ عبد الله بن عمرو … وذكره. ثم قال أبو نصر: قال لي يحيى بن معين: لم يرو الفريابي حديثًا أغرب منه، وقال: هذا أغرب ما رواه. قلنا: وأبو أراك هذا لم نتبينه. قال البيهقي في تفسير استشهاد ابن عبّاس بالآية: أراد أنَّ مصدر الجميع منه؛ أي: من خلقه وإبداعه واختراعه، خلق الماء أولًا، أو الماء وما شاء من خلقه، لا عن أصل ولا على مثال سَبَق، ثم جعله أصلًا لما خلق بعده، فهو المبدع وهو البارئ، لا إله غيره ولا خالق سواه.
📖 حوالہ / مصدر: اس جیسا دولابی نے "الکنیٰ والاسماء" (بعد از: 633) میں ابو نصر عن فریابی عن ثوری عن اعمش عن منہال عن ابی اراک کے طریق سے روایت کیا کہ ایک شخص نے عبد اللہ بن عمرو سے سوال کیا...۔ یحییٰ بن معین نے کہا: فریابی نے اس سے زیادہ غریب حدیث روایت نہیں کی، یہ ان کی اغرب مرویات میں سے ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ہم کہتے ہیں: یہ "ابو اراک" ہمیں معلوم نہیں ہو سکے۔ 📝 نوٹ / توضیح: بیہقی نے ابن عباس کے آیت سے استشہاد کی تفسیر میں کہا: ان کی مراد یہ ہے کہ سب کا مصدر اسی (اللہ) کی طرف سے ہے؛ یعنی اس کی تخلیق، ایجاد اور اختراع سے۔ اس نے پانی کو (یا پانی اور جو چاہا) پہلے پیدا کیا، بغیر کسی اصل یا سابقہ مثال کے، پھر اسے باقی مخلوق کی اصل بنا دیا۔ وہی مبدع اور باری ہے، اس کے سوا کوئی الٰہ اور خالق نہیں۔