المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
317. تفسير سورة الذاريات
سورۃ الذاریات کی تفسیر
حدیث نمبر: 3778
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفَّان، حَدَّثَنَا محمد بن عُبيد الطَّنافِسي، حَدَّثَنَا بسّام بن عبد الرحمن الصَّيرَفي، حَدَّثَنَا أبو الطُّفيل قال: رأيتُ أميرَ المؤمنين عليَّ بن أبي طالب قام على المِنبَر فقال: سَلُوني قبل أن لا تَسألوني، ولن تَسألوا بعدي مِثْلي، قال: فقام ابن الكَوَّاء فقال: يا أميرَ المؤمنين، ما الذارياتُ ذَرْوًا، قال: الرِّياح، قال: فما الحاملاتُ وِقْرًا، قال: السَّحاب، قال: فما الجارياتُ يُسْرًا، قال: السُّفن، قال: فما المقسِّماتُ أَمرًا، قال: الملائكة، قال: فمَن ﴿الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفَرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ [إبراهيم: 28] قال: منافقُو (1) قريشٍ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3736 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3736 - صحيح
سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ منبر پر کھڑے ہوئے اور بولے: مجھ سے پوچھ لو، اس سے قبل کہ تم مجھ سے پوچھ نہ سکو اور میرے بعد مجھ جیسا کوئی آدمی تمہیں نہیں ملے گا جس سے تم سوال کر سکو (راوی) کہتے ہیں: ابن الکواء کھڑا ہوا، اور بولا: اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ: وَ الذَّارِیٰتِ ذَرْوًا (الذاریات: 1) ” قسم ان کی جو بکھیر کر اڑانے والیاں۔“ (سے مراد کیا ہے)۔ آپ نے فرمایا: ہوائیں۔ اس نے کہا: فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا (الذاریات: 2) ” بوجھ اٹھانے والیاں۔“ (سے کیا مراد ہے) آپ نے فرمایا: بادل۔ اس نے کہا: فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا (الذاریات: 3) ” نرم چلنے والیاں۔“ (سے کیا مراد ہے) آپ نے فرمایا: کشتیاں۔ اس نے کہا: فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا (الذاریات: 4) ” حکم سے بانٹنے والیاں۔“ (سے کیا مراد ہے) آپ نے فرمایا: فرشتے۔ اس نے کہا: وہ کون ہیں (جن کے متعلق یہ آیت ہے): الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَۃَ اللّٰۃِ کُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَھُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَھَنَّمَ (ابراہیم: 28 , 29) ” جنہوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اتارا۔“ آپ نے فرمایا: وہ قریش کے منافقین ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3778]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3778 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: منافقي، والمثبت من المطبوع وهو الجادّة.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "منافقی" ہے، جبکہ مطبوعہ میں جو ثابت ہے وہ درست راستہ (جادّہ) ہے۔
(2) خبر صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل بسام بن عبد الرحمن.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر "صحیح" ہے اور بسام بن عبد الرحمن کی وجہ سے یہ سند "قوی" ہے۔
وأخرجه بأطول ممّا هنا عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 241 - 242 عن معمر، عن وهب بن عبد الله - وهو ابن أبي دُبيّ الهُنائي - عن أبي الطفيل، به. وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق نے "تفسیر" (2/ 241-242) میں یہاں سے زیادہ طوالت کے ساتھ معمر عن وہب بن عبد اللہ (ابن ابی دبی ہنائی) عن ابی الطفیل کے طریق سے روایت کیا۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وسلف مختصرًا برقم (3382) من طريق أبي نعيم عن بسام الصيرفي.
📖 حوالہ / مصدر: یہ مختصراً نمبر (3382) پر ابو نعیم عن بسام صیرفی کے طریق سے گزر چکی ہے۔