المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
318. استعاذة النبى صلى الله عليه وآله وسلم من شر الريح
نبی کریم ﷺ کا ہوا کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنا
حدیث نمبر: 3782
أخبرَناه عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حَدَّثَنَا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد الجارِيّ، حدثني عبد الله بن الحارث بن فُضَيل الخطمي، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله قال: كان من دعاء النَّبِيّ ﷺ:"اللهم إني أعوذُ بك من شرِّ الرِّيح ومن شرِّ ما تجيءُ به الريحُ، ومن ريح الشَّمالِ (1) ، فإنها الريحُ العَقِيم" (2) . ﷽ 52 - ومن سورة الطُّور
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے ” اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں آندھی کے شر سے اور اس چیز کے شر سے جس کو آندھیاں لاتی ہیں اور شمال کی ہوا سے کیونکہ وہ خشک آندھی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3782]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3782 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز) ومن شر الشمال.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں "ومن شر الشمال" ہے۔
(2) إسناده ضعيف لانقطاعه، فإنَّ الحارث بن فضيل لم يدرك جابرًا، ويحيى بن محمد الجاريّ ضعيف في التفرّد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند انقطاع کی وجہ سے "ضعیف" ہے؛ حارث بن فضیل نے جابر کو نہیں پایا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور یحییٰ بن محمد جاری تفرد میں ضعیف ہے۔
ولم نقف عليه مخرَّجًا عند غير المصنّف.
📌 اہم نکتہ: ہم نے مصنف کے علاوہ کسی اور کے ہاں اس کی تخریج نہیں پائی۔
وقد روي في باب الاستعاذة من شر الريح غير ما حديثٍ، انظر حديث أبي هريرة في "مسند أحمد" 12/ (7413)، وسيأتي عند المصنّف برقم (7850) ومنها حديث أُبيٍّ المتقدم برقم (3112).
🧩 متابعات و شواہد: ہوا کے شر سے پناہ مانگنے کے باب میں کئی احادیث مروی ہیں؛ دیکھیے ابو ہریرہ کی حدیث "مسند احمد" (12/ 7413) میں، جو مصنف کے ہاں (7850) پر آئے گی، اور ابی (بن کعب) کی حدیث جو نمبر (3112) پر گزر چکی ہے۔