المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
336. تفسير سورة الحديد - خصوصيات أمته صلى الله عليه وآله وسلم يوم القيامة
تفسیرِ سورۃ الحدید — قیامت کے دن نبی ﷺ کی امت کی خصوصیات
حدیث نمبر: 3827
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا عبد الله بن إدريس، عن أبيه، عن المِنهال بن عَمرو، عن قيس بن السَّكَن، عن عبد الله في قوله ﷿: ﴿يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ﴾ [الحديد: 12] ، قال: يُؤتَون نورَهم على قَدْر أعمالهم، منهم مَن نورُه مثلُ الجبل، وأدناهم نورًا من نورُه على إبهامِه، يَطفَأُ مرةً ويَقِدُ أُخرى (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3785 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3785 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ (الحدید: 12) ” ان کا نور ان کے آگے دوڑ رہا ہو گا۔“ کے متعلق فرماتے ہیں: ان کے اعمال کے مطابق ان کو نور دیا جائے گا، کسی کا نور پہاڑ کے برابر ہو گا اور ان میں سب سے کم نور والے کا نور اس کے انگوٹھے پر ہو گا جو کبھی چمکے گا اور کبھی بجھے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3827]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3827 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي. إدريس: هو ابن يزيد الأَوْدي، وعبد الله: هو ابن مسعود. وهو في "مصنف ابن أبي شيبة" 13/ 299.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی "ادریس" سے مراد ادریس بن یزید اودی ہیں اور "عبداللہ" سے مراد صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مصنف ابن ابی شیبہ" 13/ 299 میں درج ہے۔
وأخرجه بنحوه الطبري في "تفسيره" 27/ 223، وكذا ابن أبي حاتم كما في "تفسير ابن كثير" 1/ 84 من طريقين عن عبد الله بن إدريس، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام طبری نے اپنی "تفسیر" 27/ 223 میں اس کے ہم معنی روایت تخریج کی ہے، اسی طرح ابن ابی حاتم نے بھی (جیسا کہ تفسیر ابن کثیر 1/ 84 میں مذکور ہے) عبداللہ بن ادریس کے واسطے سے دو طرق سے اسی سند کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔
وهو قطعة من خبر طويل سلف عند المصنف برقم (3465) من طريق مسروق عن ابن مسعود، وليس فيه التلاوة.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ ایک لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے جو اس سے پہلے مصنف (امام احمد) کے ہاں رقم (3465) پر مسروق عن ابن مسعود کے طریق سے گزر چکی ہے، تاہم اس میں تلاوت کا ذکر نہیں ہے۔