المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
354. تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّغَابُنِ
تفسیرِ سورۃ التغابن
حدیث نمبر: 3855
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي قال: سمعت محمد بن كُنَاسة يقول: سمعت سفيانَ الثَّوري وسُئِلَ عن قول الله ﷿: ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ﴾ [التغابن: 2] ، فقال: حدثنا الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر قال: قال النبي ﷺ:"يُبعَثُ كلُّ عبدٍ على ما ماتَ عليه" (1) . قد أخرج مسلمٌ (2) حديث الأعمش، ولم يخرجه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3813 - على شرط مسلم وأخرج منه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3813 - على شرط مسلم وأخرج منه
سفیان ثوری رحمہ اللہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ﴾ [سورة التغابن: 2] کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بندہ (قیامت کے دن) اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر اسے موت آئی ہو۔“
امام مسلم نے اعمش کی یہ حدیث روایت کی ہے لیکن اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3855]
امام مسلم نے اعمش کی یہ حدیث روایت کی ہے لیکن اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3855]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي سفيان: وهو طلحة بن نافع.» [ترقيم الرساله 3855] [ترقيم الشركة 3834] [ترقيم العلميه 3813]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3855 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي سفيان: وهو طلحة بن نافع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور یہ سند قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ قوت ابو سفیان کی وجہ سے ہے، جو کہ "طلحہ بن نافع" ہیں۔
وقد سلف برقم (3729) من طريق أبي عامر العقدي عن سفيان، وذكر فيه هناك الآية (21) من سورة الجاثية.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے نمبر (3729) پر ابو عامر عقدی کے طریق سے گزر چکی ہے جو سفیان سے روایت کرتے ہیں، اور وہاں اس میں سورۃ الجاثیہ کی آیت (21) کا ذکر ہے۔
(2) برقم (2878).
📖 حوالہ / مصدر: ملاحظہ ہو نمبر (2878)۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3855 in Urdu