المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
354. تفسير سورة التغابن
تفسیرِ سورۃ التغابن
حدیث نمبر: 3856
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق (3) بن إبراهيم، أخبرنا عمرو بن محمد، حدثنا إسرائيل، عن سِمَاك، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: نزلت هذه الآية: ﴿إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ﴾ [التغابن: 14] في قومٍ من أهل مكَّة أسلموا، فأَبى أزواجُهم وأولادُهم أن يَدَعُوهم، فيَأْتُوا (4) المدينةَ، فلما قَدِمُوا على رسول الله ﷺ رَأَوْهم قد فَقِهوا، فهَمُّوا أن يُعاقِبوهم (5) ، فأنزَلَ الله ﷿: ﴿وَإِنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا﴾ [التغابن: 14] (6) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3814 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3814 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ آیت: اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَ اَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَّکُمْ فَاحْذَرُوْھُمْ (التغابن: 14) ” بے شک تمہاری کچھ بیبیاں اور بچے تمہارے دشمن ہیں تو ان سے احتیاط رکھو۔“ اہل مکہ کے کچھ لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جو اسلام لائے اور ہجرت کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (مدینۃ المنورہ) جانے کا ارادہ کیا تو ان کی بیویوں نے ان کو ہجرت سے روک دیا۔ یہ لوگ (کچھ عرصہ کے بعد) جب مدینۃ المنورہ آئے تو انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھا کہ وہ فقیہہ بن چکے ہیں۔ تو انہوں نے اپنے بیوی بچوں کو سزا دینے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی:” وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا الآیۃ “ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3856]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3856 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في (ز) إلى: يحيى.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں یہ تحریف ہو کر "یحییٰ" بن گیا ہے۔
(4) في نسخنا الخطية: فأتوا، بلا ياء، والصواب إن شاء الله ما أثبتنا، وبه يستقيم الكلام.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ لفظ "فأتوا" (بغیر یاء کے) لکھا ہے، جبکہ درست ان شاء اللہ وہی ہے جو ہم نے (متن میں) ثابت کیا ہے، اسی سے کلام درست ہوتا ہے۔
(5) أي: لمّا رأوا الناس الذين سبقوهم إلى المدينة قد فقهوا في الدين همُّوا أن يعاقبوا أزواجهم وأولادهم الذين منعوهم من الهجرة سابقًا.
📝 نوٹ / توضیح: (اس کی تفسیر یہ ہے کہ) جب انہوں نے دیکھا کہ جو لوگ ان سے پہلے مدینہ ہجرت کر گئے تھے وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کر چکے ہیں، تو انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی ان بیویوں اور اولادوں کو سزا دیں جنہوں نے انہیں پہلے ہجرت کرنے سے روکا تھا۔
(6) إسناده حسن من أجل سماك: وهو ابن حرب. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، وعمرو بن محمد: هو العَنقَزي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے سماک کی وجہ سے، جو کہ "ابن حرب" ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن ابراہیم سے مراد "ابن راہویہ" ہیں اور عمرو بن محمد سے مراد "العنقزی" ہیں۔
وأخرجه الترمذي (3317) من طريق محمد بن يوسف الفريابي، عن إسرائيل، بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3317) نے محمد بن یوسف فریابی کے طریق سے، انہوں نے اسرائیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور فرمایا: یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔