🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
368. كان خلق رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - القرآن
رسول اللہ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3884
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن قَتادة، عن زُرَارة بن أَوفى، عن سعد بن هشام بن عامر في قول الله ﷿: ﴿وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ [القلم: 4] ، قال: سألتُ عائشةَ قلتُ: يا أمَّ المؤمنين، أَنبِئيني عن خُلُقَ رسول الله ﷺ، فقالت: أتقرأُ القرآن؟ فقلت: نعم، فقالت: إنَّ خُلُقَ رسولِ الله ﷺ كان القرآنَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3842 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سعد ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ اِنَّکَ لَعَلٰی لَخُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم: 4) اور بیشک تمہاری خو بو (خلق) بڑی شان کی ہے۔ کے متعلق فرماتے ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المومنین رضی اللہ عنہا: آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق کچھ بتائیں۔ انہوں نے کہا: کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے جواباً کہا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: بے شک رسول اللہ کا خلق قرآن ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3884]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3884 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25302)، ومسلم (746) من طريق عبد الرزاق، بهذا الإسناد. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (42/25302) اور مسلم (746) نے عبد الرزاق کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا "ذہول" (بھول) ہے (کیونکہ یہ پہلے سے مسلم میں موجود ہے)۔
وأخرجه أحمد 43 / (26219)، وأبو داود (1342) من طريق همام بن يحيى، ومسلم (746) من طريق هشام الدستوائي، كلاهما عن قتادة، به. وهو عند مسلم وأبي داود ضمن حديث طويل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (43/26219) اور ابو داؤد (1342) نے ہمام بن یحییٰ کے طریق سے، اور مسلم (746) نے ہشام دستوائی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں قتادہ سے روایت کرتے ہیں۔ مسلم اور ابو داؤد کے ہاں یہ ایک طویل حدیث کے ضمن میں ہے۔
وسيأتي برقم (4268) من طريق سعيد بن أبي عروبة عن قتادة.
📖 حوالہ / مصدر: یہ آگے نمبر (4268) پر سعید بن ابی عروبہ عن قتادہ کے طریق سے آئے گا۔
وأخرجه أحمد 41/ (24601) من طريق الحسن البصري، عن سعد بن هشام، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (41/24601) نے حسن بصری سے، انہوں نے سعد بن ہشام سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا 41 / (24800) من طريق رجل من بني سواءة، والنسائي (11073) من طريق جبير بن نفير، كلاهما عن عائشة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے بھی (41/24800) میں بنی سواءہ کے ایک آدمی کے طریق سے، اور نسائی (11073) نے جبیر بن نفیر کے طریق سے، دونوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔