🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
369. تفسير سورة الحاقة
تفسیر سورۂ الحاقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3891
أخبرَناه أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، حدثنا يحيى بن العلاء، عن عمِّه شعيب بن خالد قال: حدثني سِماكُ بن حَرْب، عن عبد الله بن عَمِيرة (4) ، عن العبَّاس بن عبد المطلب قال: كنا جلوسًا مع رسول الله ﷺ بالبطحاءِ إذ مرَّت سحابةٌ فنظروا إليها، فقال لهم:"هل تدرونَ ما اسمُ هذه؟" قالوا: نعم، هذه السَّحابُ، قال رسول الله ﷺ:"والمُزْنُ" قالوا: والمُزْن، قال:"والعَنانةُ" ثم قال:"هل تدرونَ بُعدَ ما بينَ السماءِ والأرضِ؟" قالوا: لا، قال:"فإنَّ بُعد ما بينَهما إما واحدًا وإما اثنين وإما ثلاثًا وسبعين سنةً، والسماءُ فوقَها كذلك، واللهُ فوقَ ذلك ليس يَخفَى عليه من أعمالِ بني آدمَ شيءٌ، وفي السماء السابعة ثمانيةُ أَو عالٍ، بين أظلافِهم ورُكَبِهم (1) مثلُ ما بينَ سماءٍ إلى سماء" (2) .
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بطحاء (وہ بڑا نالہ جس میں ریت اور کنکریاں ہوں) میں تھے کہ بادل کا ایک ٹکڑا ادھر سے گزرا، آپ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو، اس کا نام کیا ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا: جی ہاں۔ یہ سحاب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور مزن ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: اور مزن آپ نے فرمایا: اور عنانہ ۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو زمین اور آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ 71 یا 72 یا 73 سال کی مسافت ہے اور اس آسمان سے اوپر والے آسمان بھی ایسے ہی ہیں اور اللہ تعالیٰ (کی قدرت) اس سے بھی اوپر ہے۔ اس پر انسان کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ہے اور ساتویں آسمان پر سات (فرشتے) پہاڑی بکروں کی مانند ہیں، ان کے کھروں اور رکاب کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3891]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3891 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) زاد بعده في المطبوع: عن الأحنف بن قيس، وهي زيادة مقحمة ليست في حديث شعيب بن خالد.
📝 نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں اس کے بعد "عن الاحنف بن قیس" کا اضافہ ہے، جو کہ زبردستی ٹھونسا گیا (مقحمہ) ہے اور شعیب بن خالد کی حدیث میں موجود نہیں ہے۔
(1) في (ص) و (ع) و (ب): أظلافهن وركبهن.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص)، (ع) اور (ب) میں "اظلافہن ورکبہن" ہے۔
(2) إسناده ضعيف جدًّا. وهو مكرر (3174).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف جداً" (سخت ضعیف) ہے۔ اور یہ (3174) پر مکرر ہے۔