المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
369. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَاقَّةِ
تفسیر سورۂ الحاقہ
حدیث نمبر: 3891
أخبرَناه أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، حدثنا يحيى بن العلاء، عن عمِّه شعيب بن خالد قال: حدثني سِماكُ بن حَرْب، عن عبد الله بن عَمِيرة (4) ، عن العبَّاس بن عبد المطلب قال: كنا جلوسًا مع رسول الله ﷺ بالبطحاءِ إذ مرَّت سحابةٌ فنظروا إليها، فقال لهم:"هل تدرونَ ما اسمُ هذه؟" قالوا: نعم، هذه السَّحابُ، قال رسول الله ﷺ:"والمُزْنُ" قالوا: والمُزْن، قال:"والعَنانةُ" ثم قال:"هل تدرونَ بُعدَ ما بينَ السماءِ والأرضِ؟" قالوا: لا، قال:"فإنَّ بُعد ما بينَهما إما واحدًا وإما اثنين وإما ثلاثًا وسبعين سنةً، والسماءُ فوقَها كذلك، واللهُ فوقَ ذلك ليس يَخفَى عليه من أعمالِ بني آدمَ شيءٌ، وفي السماء السابعة ثمانيةُ أَو عالٍ، بين أظلافِهم ورُكَبِهم (1) مثلُ ما بينَ سماءٍ إلى سماء" (2) .
سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم بطحاء کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک بدلی گزری تو لوگوں نے اس کی طرف دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو اس کا نام کیا ہے؟“ صحابہ نے عرض کی: جی ہاں، یہ بادل (سحاب) ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور (اسے) «المُزْنُ» (بھی کہتے ہیں)“ انہوں نے عرض کی: اور «المُزْنُ» (بھی کہتے ہیں)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور «العَنَانةُ» (بھی کہتے ہیں)“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان کا فاصلہ یا تو اکہتر، یا بہتر، یا تہتر سال کی مسافت ہے، اور اس کے اوپر والا آسمان بھی اسی طرح (اتنے ہی فاصلے پر) ہے، اور اللہ تعالیٰ ان سب کے اوپر ہے، اس پر بنی آدم کے اعمال میں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی، اور ساتویں آسمان میں آٹھ پہاڑی بکرے (فرشتے) ہیں، جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیانی فاصلہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے فاصلے جتنا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3891]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا. وهو مكرر (3174).» [ترقيم الرساله 3891] [ترقيم الشركة 3870]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3891 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) زاد بعده في المطبوع: عن الأحنف بن قيس، وهي زيادة مقحمة ليست في حديث شعيب بن خالد.
📝 نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں اس کے بعد "عن الاحنف بن قیس" کا اضافہ ہے، جو کہ زبردستی ٹھونسا گیا (مقحمہ) ہے اور شعیب بن خالد کی حدیث میں موجود نہیں ہے۔
(1) في (ص) و (ع) و (ب): أظلافهن وركبهن.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص)، (ع) اور (ب) میں "اظلافہن ورکبہن" ہے۔
(2) إسناده ضعيف جدًّا. وهو مكرر (3174).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف جداً" (سخت ضعیف) ہے۔ اور یہ (3174) پر مکرر ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3891 in Urdu