🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
369. تفسير سورة الحاقة
تفسیر سورۂ الحاقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3890
أخبرني أبو الحَسَن (1) محمد بن علي المَيْداني، حدثنا الحُسين بن الفضل، حدثنا أبو غسّان النَّهْدي، حدثنا شَريك، عن سِماك بن حَرْب، عن عبد الله بن عَمِيرة، عن الأحنف بن قيس، عن العبَّاس بن عبد المطَّلِب في قوله ﷿: ﴿وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ (17)[الحاقة: 40، 41] قال: ثمانيةُ أملاكٍ على صورة الأوْعال، بين أظلافِهم إلى رُكَبِهم مسيرةُ ثلاثٍ وستين سنةً (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد أَسنَدَ هذا الحديثَ إلى رسول الله ﷺ شعيبُ بن خالد الرازي والوليدُ بن أبي ثَوْر وعمرُو بن ثابتٍ بنُ أبي المِقدام عن سِماك بن حَرْب، ولم يحتجَّ الشيخانِ بواحد منهم، وقد ذكرتُ حديثَ شعيب بن خالد، إذ هو أقربُهم إلى الاحتجاج به (3) :
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3848 - على شرط مسلم
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَھُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ (الحاقۃ: 17) اور اس دن تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔ کے متعلق فرماتے ہیں: آٹھ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے جن کے کھروں اور رکاب تک 63 سال کی مسافت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور اس حدیث کو شعیب بن خالد الرازی، ولید بن ابی ثور اور عمرو بن ثابت بن ابی المقدم نے سماک بن حرب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک مسند کیا ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ان میں سے ایک حدیث بھی نقل نہیں کی جبکہ میں نے شعیب بن خالد کی حدیث ذکر کی ہے کیونکہ اس سے استدلال کرنا زیادہ مناسب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3890]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3890 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (ب) إلى: الحسين. وأبو الحسن محمد بن علي الميداني هذا: هو محمد بن الحسن بن علي بن بكر أبو الحسن النيسابوري، والميداني: نسبة إلى ميدان زياد، وهي محلّة بنيسابور، وقد روى المصنف من طريقه عن الحسين بن الفضل البجلي عدة أحاديث في كتابه هذا.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں یہ تحریف ہو کر "الحسین" بن گیا ہے۔ یہ ابو الحسن محمد بن علی المیدانی دراصل "محمد بن الحسن بن علی بن بکر ابو الحسن نیشاپوری" ہیں۔ "المیدانی" ان کی نسبت "میدانِ زیاد" کی طرف ہے جو نیشاپور کا ایک محلہ ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں ان کے طریق سے حسین بن فضل بجلی سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔
(2) إسناده ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔
وقد سلف برقم (3470) من طريق أبي نصر أحمد بن محمد بن نصر عن أبي غسان، وانظر ما بعده.
📖 حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (3470) پر ابو نصر احمد بن محمد بن نصر عن ابی غسان کے طریق سے گزر چکی ہے، اس کے بعد والی (حدیث) بھی دیکھیں۔
(3) كذا قال، مع أن في سند حديث شعيب بن خالدٍ ابنَ أخيه يحيى بن العلاء، قال الذهبي في "تلخيصه": ويحيى واهٍ، بل حديث الوليد أجود.
🔍 فنی نکتہ / علّت: انہوں نے ایسا کہا، حالانکہ شعیب بن خالد کی حدیث کی سند میں ان کا بھتیجا "یحییٰ بن علاء" ہے، جس کے بارے میں ذہبی نے "تلخیص" میں کہا: "یحییٰ واہی (انتہائی کمزور) ہے، بلکہ ولید کی حدیث زیادہ بہتر ہے"۔
قلنا: وحديث الوليد بن أبي ثور عند أبي داود (4723)، وابن ماجه (193)، وعبد الله بن أحمد في زياداته على "المسند" 3/ (1771). وحديث عمرو بن ثابت عند الروياني في "مسنده" (1330)، وأبي نعيم في "تاريخ أصبهان" 2/ 2، وهو مختصر بقصة الأوعال. والوليد وعمرو ضعيفان.
📖 حوالہ / مصدر: ہم کہتے ہیں: ولید بن ابی ثور کی حدیث ابو داؤد (4723)، ابن ماجہ (193) اور عبد اللہ بن احمد کی مسند پر زیادات (3/1771) میں ہے۔ اور عمرو بن ثابت کی حدیث رویانی کی مسند (1330) اور ابو نعیم کی "تاریخ اصبہان" (2/2) میں ہے، اور یہ "اوعال" (پہاڑی بکروں) کے قصے تک مختصر ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ولید اور عمرو دونوں "ضعیف" ہیں۔