🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
373. النهي عن الاستطابة بروث أو عظم
گوبر یا ہڈی سے استنجا کرنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3902
أخبرني أبو أحمد الحسين بن علي التَّميمي، أخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز، حدثني جدِّي أحمد بن منيع، حدثنا هُشَيم، أخبرني مُغِيرة، عن أبي مَعشَر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا (19)[الجن: 19] ، قال: كانوا يَركَعون بركوعه، ويَسجُدون بسجوده؛ يعني: الجنَّ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. 73 - ومن تفسير سورة المزَّمِّل ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3860 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًا (الجن: 19) تو قریب تھا کہ وہ جن اس پر ٹھٹھ کے ٹھٹھ ہو جائیں۔ (کے متعلق) فرماتے ہیں: وہ جنات آپ کے رکوع کے ساتھ رکوع کرتے اور آپ کے سجدہ کے ساتھ سجدہ کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3902]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3902 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح على وهمٍ في لفظه، فالذين كادوا يكونون عليه لبدًا هم الجن، وأما الذين كانوا يركعون بركوعه ويسجدون بسجوده فهم أصحاب النبي ﷺ.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے لیکن اس کے الفاظ میں "وہم" ہے۔ کیونکہ جو لوگ "کادوا یکونون علیہ لبدا" (قریب تھا کہ وہ اس پر پل پڑتے/بھیڑ کرتے) وہ "جن" تھے، جبکہ وہ لوگ جو آپ کے رکوع کے ساتھ رکوع اور سجدے کے ساتھ سجدہ کر رہے تھے، وہ نبی ﷺ کے "صحابہ" تھے۔
هكذا رواه أبو عوانة اليشكري عن أبي بشر جعفر بن أبي وحشية عن سعيد بن جبير عن ابن عبَّاس فيما أخرجه أحمد 4 / (2431)، والترمذي (3323 م)، وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے ابو عوانہ یشکری نے ابو بشر جعفر بن ابی وحشیہ سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے جیسا کہ احمد (4/2431) اور ترمذی (3323 م) میں ہے، اور ترمذی نے کہا: یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔
وبنحو رواية أبي عوانة هذه رواه الطبري في "تفسيره" 29/ 118 عن محمد بن حميد، عن جرير بن عبد الحميد، عن مغيرة، عن زياد، عن سعيد بن جبير - ولم يذكر فيه ابن عبَّاس، وابن حميد فيه ضعف.
📖 حوالہ / مصدر: ابو عوانہ کی اس روایت کی طرح اسے طبری نے اپنی تفسیر (29/118) میں محمد بن حمید سے، انہوں نے جریر بن عبد الحمید سے، انہوں نے مغیرہ سے، انہوں نے زیاد سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے - اور اس میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا، اور ابن حمید میں "ضعف" ہے۔
مغيرة: هو ابن مِقسم الضبي، وأبو معشر: هو زياد بن كليب التميمي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مغیرہ سے مراد "ابن مقسم ضبی" اور ابو معشر سے مراد "زیاد بن کلیب تمیمی" ہیں۔