🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
374. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُزَّمِّلِ - شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ: فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ
تفسیر سورۂ المزمل — آیت فاقرءوا ما تيسر من القرآن کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3903
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الحسن بن بِشْر الهَمْداني، حدثنا الحَكَم بن عبد الملك القُرشي، حدثنا قَتَادة، عن زُرارة بن أَوفى، عن سعد بن هشام قال: قلتُ لعائشة: أخبريني عن قراءةِ رسول الله ﷺ، قالت: لما نَزَلَت عليه: ﴿يَاأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (1) قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا (2) ﴾، قاموا سَنَةً حتى وَرِمَت أقدامُهم، فأنزل الله ﷿: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى﴾ [المزمل: 20] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3861 - الحكم بن عبد الملك ضعيف
سعد بن ہشام رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (نماز میں) قرآت کے متعلق بتائیے، تو انہوں نے فرمایا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیات ﴿يَاأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ٭ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [سورة المزمل: 1-2] نازل ہوئیں تو صحابہ ایک سال تک (نمازِ تہجد میں) کھڑے رہے یہاں تک کہ ان کے قدم سوج گئے، پھر اللہ عزوجل نے (تخفیف کرتے ہوئے) یہ حکم نازل فرمایا: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى﴾ [سورة المزمل: 20] پس تم قرآن میں سے اتنا پڑھ لو جتنا آسان ہو، اسے علم ہے کہ تم میں سے کچھ بیمار بھی ہوں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3903]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحكم بن عبد الملك القرشي، وبه أعلّه الذهبي إلّا أنه قد توبع.» [ترقيم الرساله 3903] [ترقيم الشركة 3882] [ترقيم العلميه 3861]

الحكم على الحديث: حديث صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3903 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحكم بن عبد الملك القرشي، وبه أعلّه الذهبي إلّا أنه قد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، لیکن یہ سند حکم بن عبد الملک قرشی کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے (اور اسی وجہ سے ذہبی نے اسے معلول قرار دیا)، تاہم ان کی "متابعت" موجود ہے۔
فقد أخرجه بنحوه أحمد 40 / (24269)، ومسلم (746)، والنسائي (424) و (11563) من طريق سعيد بن أبي عروبة، ومسلم أيضًا من طريق هشام الدستوائي ومعمر، وابن حبان (2551) من طريق معمر، ثلاثتهم عن قتادة، بهذا الإسناد ضمن حديث طويل. ورواية معمر عند أحمد أيضًا 42/ (25347) إلّا أنه لم يسق لفظها بتمامه.
📖 حوالہ / مصدر: چنانچہ اسے اسی طرح احمد (40/24269)، مسلم (746) اور نسائی (424، 11563) نے سعید بن ابی عروبہ کے طریق سے، اور مسلم نے ہشام دستوائی اور معمر کے طریق سے، اور ابن حبان (2551) نے معمر کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں قتادہ سے اسی سند کے ساتھ ایک طویل حدیث کے ضمن میں روایت کرتے ہیں۔ معمر کی روایت احمد (42/25347) میں بھی ہے مگر انہوں نے اس کے الفاظ مکمل بیان نہیں کیے۔
وانظر ما بعده.
📖 حوالہ / مصدر: اس کے بعد والی (روایت) دیکھیں۔
ويشهد له حديث ابن عبَّاس الآتي برقم (3906).
🧩 متابعات و شواہد: اس کے لیے بطور شاہد ابن عباس کی حدیث آگے نمبر (3906) پر آرہی ہے۔
قوله: "عن قراءة رسول الله" يعني: عن قراءته في قيامه في الليل.
📝 نوٹ / توضیح: ان کے قول "عن قراءۃ رسول اللہ" سے مراد ہے: رات کے قیام (تہجد) میں آپ ﷺ کی قرأت۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3903 in Urdu