🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
374. تفسير سورة المزمل - شأن نزول آية: فاقرءوا ما تيسر من القرآن
تفسیر سورۂ المزمل — آیت فاقرءوا ما تيسر من القرآن کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3905
حدثنا الحسن بن يعقوب، وإبراهيم بن عِصْمة قالا: حدثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب، عن داود بن أبي هند، عن عْكْرمة، عن ابن عبَّاس: ﴿يَاأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (1) ﴾، قال: زُمَّلت هذا الأمرَ فقُمْ به (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3863 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما:یٰٓاَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ (کے بعد یوں تفسیر کرتے ہیں) تم نے یہ معاملہ چھپا لیا ہے۔ تم اس کو لے کر اٹھ کھڑے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3905]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3905 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح، إلّا أنَّ وهيبًا - وهو ابن خالد - قد خولف في جعله من تفسير ابن عبَّاس، وكان وهيب قد تغيَّر قليلًا بأخرة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے، مگر وہیب (ابن خالد) کی اس بات میں مخالفت کی گئی ہے کہ انہوں نے اسے ابن عباس کی تفسیر قرار دیا ہے، اور وہیب آخر عمر میں تھوڑے متغیر (حافظہ کی کمزوری کا شکار) ہو گئے تھے۔
فقد رواه ابن أبي شيبة في "مصنفه" 14/ 295 - مجموعًا إليه الخبر الآتي برقم (3910) - عن عبد الأعلى بن عبد الأعلى، عن داود بن أبي هند، عن عكرمة من تفسيره.
📖 حوالہ / مصدر: چنانچہ اسے ابن ابی شیبہ نے اپنے "مصنف" (14/295) میں - اگلی خبر نمبر (3910) کو اس کے ساتھ ملا کر - عبد الاعلیٰ بن عبد الاعلیٰ سے، انہوں نے داؤد بن ابی ہند سے، انہوں نے عکرمہ سے ان کی اپنی تفسیر کے طور پر روایت کیا ہے۔
وتابعه أبو موسى الزَّمن محمد بن المثنى عن عبد الأعلى عند الطبري في "تفسيره" 29/ 124 في المزمل و 29/ 144 في المدثر. وهو عن عكرمة أصحُّ.
🧩 متابعات و شواہد: اور اس پر ابو موسیٰ الزمن محمد بن مثنیٰ نے عبد الاعلیٰ سے (طبری کی تفسیر 29/124 المزمل میں اور 29/144 المدثر میں) متابعت کی ہے۔ اور یہ عکرمہ سے ہی (منسوب ہونا) زیادہ صحیح ہے۔
وقد ردَّ أبو بكر بن العربي في "أحكام القرآن" 4/ 323 هذا التفسير فقال: وإنما يسوغ هذا التفسير لو كانت الميم (يعني من المزَّمَّل) مفتوحة مشدَّدة بصيغة المفعول الذي لم يسمَّ فاعله، وأما بلفظ الفاعل فهو باطل.
📖 حوالہ / مصدر: ابو بکر بن العربی نے "احکام القرآن" (4/323) میں اس تفسیر کا رد کیا ہے اور فرمایا: "یہ تفسیر تب درست ہو سکتی تھی جب (المزمل کی) میم مفتوح (زبر والی) اور مشدد ہوتی (مجہول کے صیغے کے ساتھ)، لیکن فاعل کے لفظ (صیغہ معروف) کے ساتھ یہ باطل ہے"۔
وقد روى ابن المنذر في "تفسيره" كما في "الدر المنثور" للسيوطي 8/ 313 عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿يَاأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (1)﴾ قال: النبي ﷺ يتدثر بالثياب. وهو الصواب في المعنى.
📖 حوالہ / مصدر: ابن المنذر نے اپنی "تفسیر" میں (جیسا کہ سیوطی کی "الدر المنثور" 8/313 میں ہے) ابن عباس سے اس آیت ﴿يَاأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: "نبی کریم ﷺ جو کپڑوں میں لپٹے ہوئے ہیں"۔ 📌 اہم نکتہ: اور معنی کے اعتبار سے یہی درست ہے۔