🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
389. تفسير سورة النازعات
تفسیر سورۂ النازعات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3937
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدَّثنا إبراهيم بن الحسين، حدَّثنا آدم بن أبي إياس، حدَّثنا وَرْقاءُ، عن ابن أبي نَجِيحٍ، عن مجاهدٍ، عن ابن عبَّاس: ﴿وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا (1) وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا﴾، قال: الموتُ (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3893 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما: وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا (النازعات: 1، 2) قسم ان کی کہ سختی سے جان کھینچیں، اور نرمی سے بند کھولیں۔ کے متعلق فرماتے ہیں (اس سے مراد) موت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3937]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3937 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح عن مجاهدٍ من قوله، وهذا إسناد رجاله ثقات غير عبد الرحمن بن الحسن القاضي شيخ المصنف ففيه ضعف. إبراهيم بن الحسين: هو ابن ديزيل، وورقاء: هو ابن عمر اليشكري، وابن أبي نجيح: هو عبد الله.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ مجاہد کے قول (موقوف) کے طور پر "صحیح" ہے۔ اس سند کے راوی ثقہ ہیں سوائے مصنف کے شیخ عبد الرحمن بن حسن القاضی کے، ان میں "ضعف" ہے۔ ابراہیم بن حسین سے مراد "ابن دیزیل"، ورقاء سے مراد "ابن عمر یشکری" اور ابن ابی نجیح سے مراد "عبد اللہ" ہیں۔
وأخرجه وكيع في "الزهد" (43)، والطبري في "تفسيره" 30/ 27، وأبوالشيخ في "العظمة" (462) من طريق سفيان الثوري، عن عبد الله بن أبي نجيح، عن مجاهدٍ، لم يذكر فيه ابن عبَّاس. وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے وکیع نے "الزہد" (43)، طبری نے تفسیر (30/27) اور ابو الشیخ نے "العظمۃ" (462) میں سفیان ثوری کے طریق سے، انہوں نے عبد اللہ بن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے روایت کیا ہے، اور اس میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا۔ اور اس کی سند "صحیح" ہے۔