🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
392. تفسير سورة { إذا السماء انفطرت } - من استن خيرا فله أجره وأجر من عمل به
تفسیر سورۂ إذا السماء انفطرت — جس نے بھلائی کی بنیاد ڈالی اسے اس کا اجر بھی ملے گا اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3950
أخبرنا الحسن بن حَليم المروَزي، حدَّثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا هشام بن حسّان، عن محمد بن سيرين، عن أبي عُبيدة بن حُذيفة، عن حُذيفة بن اليَمَان قال: قام سائلٌ على عهدِ النبي ﷺ فسأَل، فسَكَت القومُ، ثم إنَّ رجلًا أعطاه فأعطاه القومُ، فقال النبي ﷺ:"مَن استَنَّ خيرًا فاستُنَّ به، فله أجرُه ومثلُ أُجور من اتَّبعه غير مُنتقِصٍ من أجورهم، ومن استَنَّ شَرًا فاستُنَّ به، فعليه وزرُه ومثلُ أوزارِ مَن اتَّبعه غير مُنتقصٍ من أوزارهم شيئًا". قال: وتلا حذيفةُ بن اليَمَان: ﴿عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ﴾ [الانفطار: 5] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا (2) على حديث جرير بن عبد الله:"مَن سَنَّ في الإسلام" فقط. 83 - تفسير سورة المطفِّفين ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3906 - صحيح
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے سوال کیا۔ سب لوگ خاموش رہے پھر ایک آدمی نے اس کو کچھ دے دیا پھر باقی لوگوں نے بھی اس کو دے دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو آدمی نیک کام کرے اور اس کے نیک عمل کو اپنا لیا جائے تو اس کو اپنے عمل کا بھی ثواب ملے گا اور جو لوگ اس کو اپنائیں گے ان کا ثواب کم کیے بغیر ان کے برابر اس شخص کو بھی ثواب دیا جائے گا اور جو آدمی برا عمل کرے اور اس کے اس عمل کو اپنا لیا جائے تو اس کو اپنے عمل کا گناہ بھی ہو گا اور جو لوگ اس کو اپنائیں گے ان کے گناہ میں کمی کیے بغیر ان کے برابر اس کو بھی گناہ ملے گا۔ پھر سیدنا حذیفہ نے یہ آیت پڑھی: عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْ (الانفطار: 5) ہر جان، جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف یہ الفاظ نقل کئے ہیں: مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3950]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3950 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل أبي عبيدة بن حذيفة. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے اور اس کی سند ابو عبیدہ بن حذیفہ کی وجہ سے "حسن" ہے۔ ابو المرجہ سے مراد "محمد بن عمرو فزاری"، عبدان سے مراد "عبد اللہ بن عثمان مروزی" اور عبد اللہ سے مراد "ابن المبارک" ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (23289) عن وهب بن جرير، عن هشام بن حسان، بهذا الإسناد ولم يذكر فيه التلاوة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (38/23289) نے وہب بن جریر سے، انہوں نے ہشام بن حسان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس میں تلاوت کا ذکر نہیں کیا۔
ويشهد له حديثًا جرير بن عبد الله البجلي وأبي هريرة عند مسلم (2674) (15) و (16).
🧩 متابعات و شواہد: اس کے لیے بطور شاہد جریر بن عبد اللہ بجلی اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث مسلم (2674/15، 16) میں ہے۔
(2) هذا ذهول من المصنف ﵀، فحديث جرير أخرجه مسلم دون البخاري.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ مصنف رحمہ اللہ کا "ذہول" (بھول) ہے، کیونکہ جریر کی حدیث مسلم نے روایت کی ہے، بخاری نے نہیں۔